Search This Blog

Total Pageviews

Friday, January 10, 2014

ٹی وی کا اسلام

ٹی وی کا اسلام

ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہے، ایسی درس گاہ جس کا سکھایا ہوا سبق اتنا مثر ہے کہ ہمیشہ کے لیے بچے کے ذہن پر نقش ہو جاتا ہے، بچے سے ماں کی محبت کا اندازہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں ۔ اس کی کوشش یہی ہوگی کہ بچے دین دار بنیں، بچے دین دار اسی وقت بن سکتے ہیں جب مائیں اپنے بچے کہ دین کی طرف راغب کریں، بچوں کا رجحان دین کی طرف ہوجائے یہ اسی سورت میں ممکن ہے جب ہم ان کہ دینی ماحول فراہم کریںگے۔ علماءحق سے جڑنے کی ترغیب دیں گے ان کی صحبت میں بیٹھنے کی ترغیب دیں گے ۔” فلانے پروگرام میں کوئی صاحب یہ بات کہہ رہے تھے اور وہ صاحب بہت قابل ہیں، بہت اچھا پروگرام ہے اس کو دیکھنا چاہیے بڑی معلومات ہوتی ہیں ہم تو اس پروگرام سے بہت سیکھتے ہیں“۔
ٹی وی کے ایک پروگرام میں ایک صاحب ذاکر نائیک کے نام سے آتے ہیں جو یہودیوں کا پہنا وا پہنتے ہیں، ٹائی لگاتے ہیں اور انتہائی غلط دینی معلومات بہت وثوق اور دلیلوں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ایک خاتون سے ہماری ملاقات ہوئی، کہنے لگیں کہ چہرے کا پردہ نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ عورت کے چہرے کا پردہ ہے ، کہنے لگیں ذاکر نائیک نے اپنے پروگرام میں بتایا ہے میں نے خود سنا ہے کہ عورت کے چہرے کا پردہ نہیں ہے اور اس بات پر دلیل دی۔ ان محترمہ سے میں نے کہا کہ قرآن کریم پر ایمان ہے؟ کہنے لگیں ہاں! ہم نے کہا سورة الاحزاب میں صاف طور پر لکھا ہے۔ ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے، بیٹیوں سے اور دوسرے مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ اپنے چہرے کو تھوڑی تک چادروں سے ڈھانپ لیا کرو“۔ اب آپ بتائیں قرآن صحیح کہہ رہا ہے کہ نعوذباللہ ذاکر نائیک درست ہے، آج کی مسلمان عورتیں ذاکر نائیک سے اس قدر متاثر ہیں کہ اس کو غلط ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ اس کے متعلق کہتی ہیں کہ وہ تو بہت عالم فاضل ہیں اس کے پاس تو بہت علم ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ یہی اس کا علم ہے کہ اس نے قرآن مجید کی آیات کو اپنی خود ساختہ دلیل سے غلط کردیا۔ ٹی وی کے ذریعے تو اسی طرح کی دینی معلومات مل سکتی ہے ، ٹی وی تو ذریعہ ہی مسلمانوں کو دیں سے دور کرنے کا ہے۔ ہم تو اپنے اللہ کے جتنے بھی شکر گزار ہوں کم ہے کہ اس نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنایا ، ہمارے پاس تو دین کو سیکھنے کے لیے قرآن و حدیث موجود ہے، ہمیں کہیں اور دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہی انسان کی مکمل اصلاح کا ذریعہ اور دنیا آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔

Tuesday, September 24, 2013

اسلامی جمہوریت

 

اسلامی جمہوریت 

ہمارے ایک دوست تھے ،ذھن اسلامی ، چہرہ مہرہ غیراسلامی ، ہم ذھن پر ہی شکر ادا کرتے ،موصوف کچھ عرصہ کے لیے ولایت تشریف لے گئے جب واپسی ہوئی تو بغل میں ایک میم تھیں! موصوف کا تعلق روایتی گھرانے سے تھا ،اس لیے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ جناب میم لے کر آئے ہیں ،رشتے داروں نے گوری کے دیدار کے لیے دوردراز سے ان کے گھر تک کا سفر کیا ، عورتیں سروں پر ڈوپٹہ لیتی ہوئی چوری چوری میم صاحبہ کو دیکھتی اور ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتیں کہ کہیں گوری میلی نہ ہوجائے ، دولہا کی بہنیں فخریہ لہجے میں سہلیوں کو بتاتی پھرتیں کہ بھیا انگلینڈ سے میم لائے ہیں، بچے تو اس کمرے سے نکلتے ہی نہ تھے جہاں پر میم تھی اماں کو انگلش وغیرہ تو نہ آتی تھی لیکن پھر بھی روایتا چادر اور سوٹ گوری کو دیا ، بلائیں لیتی لیتی رہ گئیں کہ پتہ نہیں میم کو کیسا لگے ۔ ہاں بیٹے کو جی بھر کر دعائیں دیتی رہیں ، صرف ابا جی تھے جنہوں نے بیٹا جی سے دریافت کیا ،مسلمان کیا ہے ؟ بیٹا جی نے جواب دیا جی اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے ، اور اباجی مطمئن ہوگئے

!
مشترکہ خاندانی نظام تھا ، کچھ عرصہ گزرا کہ ایک نیا کام شروع ہوا ، میاں کے آفس جانے سے پہلے میم دروازے کے اوپر خاوند کی باہوں میں جھول جاتی اور چہرے پر ایک پیار کی لمبی مہر ثبت کرتیں! گھر میں کچھ چہ مہ گویئاں ہوئیں ، بیٹا جی نے استفسار پر بتایا کہ سمجھ جائے گی "کلمہ پڑھا ہوا ہے" گرمیاں شروع ہوئیں گوری نے پینٹ اتار کر نیکر پہننی شروع کردی ، ابا جی تو کمرے سے باہر نکلنا چھوڑ دیا اور بھائی رات کو دیر سے گھر آنے لگے ، اماں ہر وقت گھر کی دیواروں کو تکتی رہتیں کہ کہیں سے چھوٹی تو نہیں رہ گئیں ! بیٹے سے شکوہ ہوا اس نے پھر بتایا "کلمہ پڑھا ہوا ہے"۔ ایک شادی پر گوری نے بریک و کینبرے ڈانس کا ایسا شاندار نمونہ پیش کیا کہ بڑے بڑے دل تھام کر رہ گئے ،دریافت کرنے پر پھر بتایا گیا کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے"۔ گوری عید وغیرہ تو کرتی لیکن ہر سال کرسمس بھی بڑے تزک و احتشام سے مناتی بیٹا جی ہر دفعہ پوچھنے پر جواب دیتے "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ وقت گزرتا چلا گیا ،برداشت پیدا ہوتی چلی گئی، بچہ ہوا تو گوری نے ختنے کروانے سے انکار کردیا کہنے لگی کہ یہ ظلم ہے ، بیٹا جی کھسیانی سی ھنسی کے ساتھ بولے سمجھ جائے گی "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ڈانس ، میوزک ، فلمیں ، کاک ٹیل پارٹیز ، کرسمس ، سرعام بوس و کنار گھر کے کلچر کا حصہ بنے ، بھائی آہستہ آہستہ بھابی سے فری ہوتے چلے گئے ، ہاتھوں پر ہاتھ مار کر باتیں کرتے اور وہ ان کی گوری سہیلیاں ڈھونڈنے کی کوشش۔ بہنیں بھابی کے کمرے میں جاتیں اور جینز کی پینٹیں پہن پہن کا شیشے کے آگے چیک کرتیں کلمہ تو انہوں نے بھی پڑھا ہوا تھا ،بھابی سے دل کی ہر بات کھول کر بیان کرتیں ، گوری کبھی کبھار نماز جمعہ پڑھ لیتی تھی اس لیے ابا جی بھی کہنے لگے "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ ایک صرف اماں تھیں جو کہ گھر کے دروبام کو اب خوفزدہ سی نظروں سے دیکھتیں اور پوچھنے پر سر جھکا کر جواب دیتی کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ دوست احباب جب بھی ملنے جاتے تو گوری خاوند کے پہلو سے چپک بیٹھتی ، ایک دو بار تو جگہ تنگ ہونے کی صورت میں گود میں بھی بیٹھنے سے گریز نہ کیا پوچھنے پر صرف اتنا جواب ملتا "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ایک کام گوری کا اچھا تھا جب بھی کہیں باہر بازار وغیرہ نکلتی تو جینز شرٹ میں ملبوس ہونے کے باوجود سر پر ایک ڈوپٹۃ سا ڈال لیتی ۔ دیکھنے والے دیکھ کر ہی اندازہ کرلیتے کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے


اسلامی جمہوریت بھی مغرب کی ایک ایسی ہی گوری ہے جس کو ہمارے کچھ دینی مزاج والے بھائی بیاہ لائے۔ انہوں نے اس کو ادھر کے معاشروں کے قابل قبول ہونے کے لیے اسے کلمہ پڑھایا، قوم کے لیے اس کے رعب میں آنے کے لیے اس کا بدیسی ہونا ہی کافی تھا ،اتنی گوری اتنی چٹی "کلمہ پڑھی ہوئی جمہوریت"!! انہوں نے ہاتھ لگانے کی بھی جرآت نہ کی دور دور سے ہی دیکھ کر خوش ہوگئے کہ لو ایک کلمہ پڑھی گوری اپنے ہاں بھی آئی ہے ۔ اس نے رواج توڑے ، دستور توڑے ، آزادی کے نام پر ہر ایک چیز کو اندر لے آئی ، لیکن قوم خوش ہی رہی کہ کلمہ پڑھا ہوا ہے !! معاشرت کے نام پر یہ ہر اس میدان میں اسی طرح ناچنے لگی جو کہ غیر قوموں کا دستور تھا لوگ پھر بھی مطمئن رہے کہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے ، اس نے ہر شرک و کفر کو ایک جواز دیا ، ہر ظالم کو اقتدار تک پہنچنے کا راستہ دیا ، دین کے ہر ابا جی کو سمجھوتہ کرنا سکھایا ، کلمے کا سہارا لے کر ہر چیز کو عام کیا ، اور ہم محلے داروں کی طرح اسی بات پر خوش رہے کہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے !! اگر کسی نے بہت زیادہ شرمندگی محسوس کی بھی تو اماں جی کی طرح سر جھکا کر یہی کہا کہ کلمہ پڑھا ہوا ہے ۔
آج بھی وقت ہے کچھ یہ برباد کرچکی کلمے کے بھیس میں کچھ برباد کردے گی ۔ بچ جائیں اور اس اسلامی جمہوریت کو تین طلاقیں دے دیں ۔ طلاق اس کا حق ہے کیونکہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے

کیاالقاعدہ فتح یاب ہورہی ہے؟

کیاالقاعدہ فتح یاب ہورہی ہے؟
مروان بشار سینئر سیاسی تجزیہ نگار ،الجزیرہ ٹی وی

واشنگٹن کی جانب سے شروع کردہ ”وار آن ٹیرر “کے بارے میں کیا کہا جائے کہ پیپر کٹر تھامے ڈیڑھ درجن نوجوانوں نے لاکھ ہا مغربی دستوں کو عظیم مشرق وسطیٰ کے جنگی میدانوں میں گھسیٹ لیا ہے ۔لاکھ سے زائد بیرونی افواج افغانستان کی دلدل میں پھنسی حیرت میں مبتلا ہیں کہ القاعدہ کے کتنے درجن اراکین باقی بچ گئے ۔دنیا کی سب سے لبرل جمہوریت نے اپنے ”پیٹریاٹ ایکٹ“کے تحت متنازع غیر انسانی قوانین اور جذبہ حب الوطنی سے عاری افعال کا ڈھیر لگا دیا۔جوتے میں بم رکھے ایک شخص نے لاکھوں لوگوں کو ہر دفعہ جہاز میں سوار ہونے سے پہلے جوتے اتارنے پر مجبور کردیا اور زیر جامہ دھماکہ خیز مواد چھپائے ایک شخص کی وجہ سے ہر مسافر انتہائی ذلت آمیز طریقہ پر اپنی تلاشی دے رہا ہے ۔
امریکہ اپنا احساس تحفظ اور وقار ‘بمع اربوں ڈالر کے فوجی اور دیگر اخراجات کے ‘کھوچکاہے ۔جبکہ القاعدہ کی قیادت متحرک اور فعال ہے ۔پوری دنیا میں اس کے سیل (cell)تیزی سے بڑ رہے ہیں ،رضاکار جوق درجوق اس کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں اور نوجوان ویب سائٹوں پر اس کے نظریے کا پرچار کررہے ہیں ۔اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اب بھی امریکہ اور امریکیوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کا حریف تعداد اور صلاحیت میں کمی کے باوجود کوئی سُپر پاور ہے ۔کیا القاعدہ فتح یاب ہورہی ہے ؟کیا امریکہ جنگ ہارچکا ہے؟
تقریباً بارہ سال قبل ایک غیر منظم گروہ القاعدہ نے ،جس کے لیے جائے پناہ افغانستان کی پہاڑیاں تھیں،امریکہ کو ہدف بنانا شروع کیا ،اس کی ناک کو خاک آلود کیا ۔القاعدہ خوش قسمت تھی کہ اُس نے ان جنگجوؤں کے ذریعے جنہوں نے کبھی باقاعدہ فوج میں ملازمت بھی نہ کی تھی ،وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو مغلوب کردیا ۔بش انتظامیہ نے جنگ کو دشمن کے علاقے میں لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنا گھر محفوظ رہے یہی تو وہ ردعمل ہے جس کی خواہش القاعدہ کررہی تھی ۔یہ سب کچھ ایسے آرام سے ہوتا چلاگیا جیسا کہ کوئی فلم ہو ۔امریکی عظمت کے میناروں ،پینٹاگون اور وال اسٹریٹ کے زمین بوس ہوتے ہی زخم خوردہ ”سُپر پاور“نے اشتعال انگیز لہجے میں میدان کا رخ کیا ،یہ سوچے بغیر کہ اس جنگی کاروائی کے اثرات کیاہونگے۔
امریکی انتہاپسندوں نے امریکہ کے قومی سلامتی کے خطرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے فوجی ایجنڈے کو امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ بنادیا اور اس بدلتی صورتحال کو ”اپنے طرز زندگی “کے لیے خطرہ قرار دیا ۔تاکہ وہ امریکی معاشرے کو بھی انتہاپسندی کی طرف موڑ دیں۔واشنگٹن نے صلیبی جنگ کانقارہ بجاڈالابعدازاں اسے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “قرار دیاگیا اور اس بھیس میں وہ افغانستان وعراق پر قبضہ کرنے اور لبنان اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کو سہارا دینے کے لئے چل پڑا،اس نے صومالیہ ،یمن اور پاکستان میں بھی مداخلت کی اور اپنے اتحادیوں پر زور ڈالا کہ وہ اپنے یہاں موجودہ اسلامی تحریکوں کے خلاف صف آراءہوں ۔پلک جھپکتے میں امریکہ اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں اور بھاری بھرکم فوجی آپریشنوں کے بوجھ تلے دب گیا اور جیسا کہ اُمید کی جارہی تھی ،انسانی جانوں کے بے پایاں ضیاع نے امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکادیا۔
خلاف توقع ”دوست ممالک“جیسا کہ اردن ،سعودی عرب ،ترکی وغیرہ کے عوام میں امریکہ سے نفرت میں اضافہ باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہوا۔امریکہ کی بدقسمتی اور ایک منتشر ،متحرک اور کثیر مرکزی قوت جو کہ سینکڑوں مجموعوں پر مشتمل ہے ‘کے خلاف فوجی قوت کے غیر متناسب استعمال نے امریکہ کو مزید غیر محفوظ اور شکست خوردہ کردیا ۔اس وقت جبکہ اوبامہ انتظامیہ 660ملین ڈالر کے منظور شدہ دفاعی بجٹ میں 2010ءکے لیے مزید 33بلین ڈالر کے اضافے کا مطالبہ کررہی ہے سابق امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف رچرڈمائیر نے چند ہفتے قبل مجھے بتایا کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود بھی امریکہ سے نبردآزما اس عالمی یلغار سے مقابلے کے لیے امریکہ کے پاس کوئی حکمت عملی موجود نہیں ۔
امریکی فوج گردی کے خلاف اُٹھنے والی عوامی عالمی مذمت کے سامنے واشنگٹن نے اپنے کان بند رکھے ۔فوجوں میں توسیع سے ہاتھ کھینچنے کی بجائے اوبامہ انتظامیہ نے افغان پاکستان علاقوں میں اسے مزید تیز کردیا اور ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ یمن میں بھی یہی کرنے جارہاہے ۔امریکی صدراوبامہ کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات ،عرب اور مسلمان دنیاکے ساتھ باہمی احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر روابط کے قیام کے نعرے ڈرون حملوں،تیز رفتار F-15جیٹ طیاروں اور دندناتے ٹینکوں کی گرج کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں۔
اسی طرح امریکہ کی فوجی کاروائیاں اس کے جاسوسی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو نقصان پہنچارہی ہیں۔فوجی مہمات جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے غیر متوقع طور پر اتحاد قائم ہوتے ہیں جیسا کہ امیرطبقے سے تعلق رکھنے والا نائیجریا کا نوجوان جس کی تعلیم لندن سے ہے ،ترکی کا تعلیم یافتہ اردنی ڈاکٹر اور عربی نژاد ہمام البلاوی ‘یہ تمام کے تمام امریکہ کو زخم خوردہ کرنے کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار تھے ۔
اسی دہشت گردی ،مخالف حربوں اور جاسوسی نظام نے عوامی سفارت کاری کے لئے بھی دلوں اور ذہنوں کو جیتنا مشکل بنادیا ہے ۔خطہ کے لوگوں کی مشکلات کو سُننے کی بجائے ‘ان کی جاسوسی کی جاتی ہے اور ان کے حقوق کی آواز کو دُور دراز کے قیدخانوں میں بندکردیاجاتا ہے ۔ان کے تحفظات اور خدشات کی شنوائی کرنے کی بجائے واشنگٹن نے اپنی اغراض کو سب سے زیادہ بلند کررکھا ہے ۔غربت کے مارے ،شمالی اور جنوبی علاقوں میں جنگ کی تکلیفیں سہتے اور تین دہائیوں سے آمرانہ اقتدار کے شکنجے میں کسے یمنیوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اپنی تکلیفوں کو بُھلاکر امریکی خدشات کو دور کرنے کا سامان کرو اور امریکی مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دو ۔یہ سب کچھ ہمیں ہمارے ابتدائی سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ جتنا امریکہ اس خود شکستہ جنگ میں آگے بڑھتا جارہا ہے اُتنا ہی القاعدہ کامیابی سے قریب ہوتی جارہی ہے۔

القاعدہ کا فتح کابیس سالہ منصوبہ!

القاعدہ کا فتح کابیس سالہ منصوبہ! ۔







سن 2005 کے اختتام پر ایک اردنی صحافی فواد حسین کی ایک عربی کتاب منظر عام پر آئی جس کو عربی روزنامہ القدس عربی نے چھاپا - کتاب کا نام تھا
الزرقاوی ۔ القاعدہ کی دوسری نسل
Al-Zarqawi . Al-Qaeda Second Generation
اپنی طباعت کے موقع پر یہ کتاب کوئی خاص اہمیت حاصل نہ کرسکی گوکہ فواد حسین معصب الزرقاوی کے ساتھ اردنی جیل میں کچھ وقت گزار چکے تھے ۔ اور اپنے دعوی کے مطابق القاعدہ کی لیڈر شپ سے رابطہ رکھتے تھے ۔ لیکن عرب بہاریہ کے بعد ایک دم یہ کتاب مغربی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ۔ خاص طور پر جس بات نے ان کی توجہ مرکوز کی وہ "القاعدہ کا فتح کا بیس سالہ منصوبہ" تھا جس کا دعوی جہادی ذرائع سے اس کتاب میں کیا گیا ۔ اس کتاب کے یہ مندرجات حیران کن طور پر کچھ ہی سالوں میں سچے ثابت ہوئے ۔ جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے
ہیں ۔ مصنف نے القاعدہ کے منصوبے کو سات حصوں یا مراحل میں تقسیم کیا ہے
2003پہلا مرحلہ ۔ بیداری ،مدت 2000 تا

اس عرصہ کے دوران امریکہ کو اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسلامی دنیا پر جنگ کا اعلان کردے ،9/11 اس سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ جس کا مقصد امریکہ کو مسلم دنیا کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنا اور مسلم عوام کو بیدار کرنا تھا ۔ یہ مرحلہ انتہائی کامیابی سے حاصل کرلیا گیا اور امریکہ اور اس کے اتحادی مسلم دنیا کے ساتھ ایک جنگ میں ملوث ہوگئے اور آسان شکار ثابت ہوئے ۔ سن 2003 میں بغداد پر حملے نے مسلم دنیا میں اور اضطراب پیدا کردیا اور مسلم دنیا مغربی سازش کے خلاف بیدار ہونا شروع ہوئی ۔
دوسرا مرحلہ- فریب توڑنا ،مدت 2003 تا 2006
فاضل مصنف نے جس وقت یہ کتاب لکھی اس وقت یہ مرحلہ چل رہا تھا ، مصنف کے مطابق اس
مرحلے کے دوران اسلامی دنیا کو مغربی سازشوں سے خبردار کرنا تھا ۔ اور القاعدہ کو ایک جماعت سے ایک فکر کا روپ دینا تھا ۔ مصنف کے مطابق اس عرصہ کے دوران عراق اس جنگ کا محور بننا تھا ، جہاں پر ایک ایسی فوج کی تشکیل کا کام سرانجام دینا تھا جو کہ دوسرے عرب ممالک تک اثر رسوخ رکھتی ہو
القاعدہ نے یہ مرحلہ بھی بڑی کامیابی سے حاصل کرلیا ،عراق میں القاعدہ کی نئی شاخ وجود میں آئی اور 2006 کے اختتام تک یمن میں بھی القاعدہ وجود میں آچکی تھی ، اسی اثنا میں کئی اور گروپس نے القاعدہ کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا اور یہ تنظیم پورے عرب میں پھیل گئی ۔اس کو عربی جزیرہ نما میں القاعدہ کا خطاب اس وقت ملا جب یمنی برانچ نے سعودی برانچ کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا ۔ سن 2007 ہی کی شروعات میں الجیریا کی تنظیم کی شمولیت کے ساتھ ہی اس کو القاعدہ ان اسلامک مغرب کا نام دے دیا گیا
تیسرا مرحلہ - بغاوت،مدت 2007تا 2010
یہ مرحلہ بہت اہم ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ اس کی ٹائمنگ کتاب کے منظر عام پر آنے سے بعد کی ہے ۔ یہ کتاب سن 2005 میں لکھی گئی ۔اس کے مطابق اس مرحلے میں
شام رسول اللہ کی پیشین گویئوں کی روشنی میں مرکزی مقام تھا جہاں پر ایک جہادی تحریک کو کھڑا کرنا تھا، اس کے علاوہ اسرائیل ، ترکی و اردن پر حملے بھی منصوبے میں شامل تھے ۔ ان حملوں کا مقصد مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا درجہ حاصل کرنا تھا ۔
لیکن یہ مقاصد اس دور میں حاصل نہ کیے جاسکے ، عراق جنگ کے دوران شام میں القاعدہ کو اڈے بنانے کی اجازت تھی ۔ لیکن عراق رافضیوں کے ہاتھوں لگتا دیکھ کر شامی حکومت نے وہ اڈے فورا ہی بند کروا دیئے اور جہادی عناصر کو مجبورا عراق میں ہجرت کرنا پڑی ۔ اسرائیل پر کچھ راکٹ تو فائر کیے گئے لیکن وہ کوئی قابل زکر نقصان نہ پہنچا سکے ۔ بلکہ حماس کو القاعدہ کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کردیا ، یہی حال اردن میں ہوا جہاں کی انٹلیجنس کی کاروائی سے القاعدہ کا سیل گرفتار ہوا اور عقوبت خانوں میں پہنچا دیا گیا
لیکن یہ مرحلہ مکمل ناکامی کا مرحلہ نہیں تھا ۔انہی خطوں میں القاعدہ اپنی خاموش موجودگی قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ان حکومتوں کا بغص بھی کھل کر سامنے آگیا
چوتھا مرحلہ ۔عرب بہاریہ ،مدت -2010 تا 2013
القاعدہ کے اندازے کے مطابق اس عرصے کے دوران عرب کے غدار حکمرانوں کے خلاف بغاوتیں ہوجائیں گئیں اور ان کے اقتدار چھین لیے جائیں گئیں ۔ اسی دوران امریکہ پر سائبر حملے بھی کیے جائیں گئیں
جہاں تک اندازے کی بات ہے تو القاعدہ کا یہ اندازہ حیرت انگیز حد تک درست نکلا اور اسی دوران ،تیونس ، مصر ،لیبیا و شام کی بغاوتیں رونما ہوئیں ۔ گوکہ ان بغاوتوں میں القاعدہ کی فکر کا کردار اتنا زیادہ نہ تھا لیکن یہ اس کی مقصد کی برآواری کے لیے بہت مفید ثابت ہوئیں ، ان عرب بغاوتوں کا سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ ہی نے اٹھایا شمالی افریقہ میں اس کی اتحادی جماعت انصار الشریعہ دعوت و تبلیغ کے زریعے اپنا پیغام پھیلانے میں کامیاب رہی اور ایک معاشرتی تنظیم کا روپ دھارنے میں کامیاب بھی ۔
عراق سے حاصل کیے گئے تجربے کو اس نے شام میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا اور طاقت کے اندھا دھند استعمال کی بجائے حکمت و تدبر اختیار کرکے مسلم معاشرے میں اپنی جگہ بنائی ۔ شامی بغاوت سے اس کو کافی عرصہ بعد ایک نئے ملک میں اپنے اڈے بنانے کا موقع ملا جو کہ اسرائیل و ترکی کی عین سرحد کے اوپر ہیں ۔ مجموعی طور پر اس مدت کے ہدف باآسانی حاصل کرلیے گئے ۔
پانچواں مرحلہ ۔ خلافت ،مدت 2013 تا 2016
القاعدہ کے مطابق یہ عرصہ اسلامی خلافت کے قیام کا عرصہ ہوگا ۔ جس میں دشمن قوتوں کو اس حد تک شکست دی جاچکی ہوگی کہ وہ اسلامی خلافت کے قیام کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں گئیں ۔ مغربی اثر و رسوخ مسلم خطوں پر سے کم ہوچکا ہوگا اور اسرائیل کمزور ہوچکا ہوگا یا صرف اپنے آپ کو بچانے کی تیاریوں میں !
یہ مرحلہ مستقبل سے متعلقہ ہے ۔ لیکن ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی خلافت کے قیام کی آواز جتنی اب زور دار ہے پچھلی صد سالہ تاریخ میں کبھی بھی اتنی زور دار نہیں رہی ۔ شام ،افغانستان ، یمن ، عراق میں جاری جہاد نے اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے اور بذات خود امت کی مختلف جماعتوں کے اندر ایک جھنڈے و لیڈر کے تلے کھڑے ہونے کی خواہش کو بڑھاوا دے دیا ہے ۔ امریکی اثر و رسوخ کی گرفت عرب خطوں پر ویسی نہیں رہی جیسی کے چند سال پہلے تک تھی ۔ وہ اس محاذ پر پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے ۔ اسرائیل کمزور ہوا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ایک دفاعی پوزیشن اختیار کرتا جارہا ہے
چھٹا مرحلہ ۔ کھلا مقابلہ ۔مدت - 2016 تا 2020
کتاب کے مصنف کے مطابق القاعدہ اس عرصے کو لادینوں و کفریہ طاقتوں کے ساتھ کھلے مقابلے کا دور کہتی ہے ۔ جس میں یہ سب مل کر اسلامی خلافت کے مقابلے میں صف آرا ہوجائیں گئیں ،اور ایک ہولناک جنگ کا آغاز ہوجائے گا جو کہ مسلمانوں کی فتح پر منتج ہوگی
اگر القاعدہ کا خلافت قائم کرنے کا منصوبہ پورا ہوجاتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ یہ مرحلہ آکر رہے گا ۔ اور پورا عالم کفر بمعہ رافضی اس خلافت کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ دیں گئیں ۔ یہ کب ہوگا اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایسا ہونا یقینی ہے
ساتواں مرحلہ ۔ مکمل فتح ،مدت 2018 تا 2020
مصنف کے دعوی کے مطابق القاعدہ کو یقین ہے کہ 2020 تک کفریہ طاقتوں کو مکمل شکست دی جاچکی ہوگی اور اسلامی خلافت اپنی شان و شوکت سے قائم ہوگی
اللہ کرے کہ یہ مرحلہ ہماری زندگیوں میں ہی آجائے اور ایک بار پھر ہم اسلام کے نظام کو پوری شان و شوکت سے حکمرانی کرتا دیکھ سکیں ۔ اور مستقبل کا درست حال تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے
ہم حتمی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ واقعی ہی القاعدہ کا منصوبہ ہے کہ نہیں لیکن اس کتاب کے مندرجات ناقابل یقین حد تک ان مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے

Sunday, May 12, 2013

Nawaz Sharif’s Dirty Shameful Scandal with Kim Barker


Monday, April 15, 2013

جمہوریت اسلام کے مخالف ایک دین ہے

جمہوریت اسلام کے مخالف ایک دین ہے


Friday, March 15, 2013

جماعت قاعدۃ الجہاد کے میگزین ’’انسپائر‘‘ کے نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ‘‘ مطلوب گستاخ دہشت گردوں کی لسٹ جاری

جماعت قاعدۃ الجہاد کے میگزین ’’انسپائر‘‘ کے نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ‘‘ مطلوب گستاخ دہشت گردوں کی 
لسٹ جاری
نیوز رپورٹ

انسپائر میگزین کے اس نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ حالت میں مطلوب دشمنان اسلام‘‘ کی ایک لسٹ جاری کی گئی ہے، جن کو ہلاک یا قید کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس لسٹ کے ساتھ عنوان کے طور پر یہ لکھا ہوا ہے ’’ہاں! ہم یہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں‘‘۔ جبکہ اس کے نیچے ذیل کی سرخی میں یہ لکھا ہوا ہے: ’’روزانہ ایک گولی ایک کافر کو تم سے دور کرسکتی ہے‘‘۔

اس لسٹ میں ان عالمی مجرم دہشت گردوں کے نام دیئے گئے ہیں، جنہوں نے دنیا کی سب سے برگزیدہ ہستی اور تمام انسانوں کے سردار جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کارٹون، خاکے، ویڈیوز، کتابیں اوردیگر توہین آمیز مواد مرتب اور نشر کیا تھا۔

ان مجرم دہشت گردوں میں:

گزشتہ سال رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والی امریکی کارٹونسٹ فنکار ’’کارموللی نوریس‘‘

اسلام میں عورت پر ظلم کے حوالے سے 2004ء میں توہین رسالت پر مبنی سلسلہ وار فلموں کا اسکرپٹ لکھنے والی ہالینڈ پارلیمنٹ کی سابق رکن ’’ایان حرسی علی‘‘

توہین آمیز کتاب لکھنے والا برطانوی رائٹر جوکہ اصل میں بھارتی ہے، ’’سلمان رشدی‘‘

قرآن کے متعدد نسخوں کو نذرآتش کرنے والا مشہور امریکی پادری ’’ٹیری جونز‘‘

ڈنمارک کی اخبار ’’ییلاند پوسٹن‘‘ کے ثقافتی ایڈیٹر اور 2005ء میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف ہونے والے احتجاج کی مذمت پر مبنی کتاب نشر کرنے والا ڈنمارک کا صحافی ’’فلمینگ روز‘‘

کھلے عام اسلام اور رسول دو جہاںﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے والا، مسلمانوں کی توہین آمیز کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا اور امریکی گستاخانہ فیلم کو وسیع پیمانے پر پھیلانے والا امریکہ میں مقیم قبطی عیسائی ’’مورس صادق‘‘

اسلام کو دہشت گردی کا دین قرار دینے اور 2008ء میں بننے والی گستاخانہ فلم ’’فتنہ‘‘ کا پروڈیوسر ہالینڈ کے انتہاپسند دائیں بازو جماعت کا ممبر پارلیمنٹ ’’خیرت فیلڈرز‘‘

2007ء میں رسول اللہ ﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکوں کو بنانے والا سویڈن کارٹونسٹ ’’لارس فیلکس‘‘

گزشتہ سال رسول اللہ کے خاکوں اور توہین آمیز عبارتوں کو نشر کرنے والے میگزین ’’چارلی ایبدو‘‘ کا ایڈیٹر فرانسیسی صحافی ’’اسٹیفن شاربونییہ‘‘

2006ء میں گستاخانہ کارٹوں بنانے والا ڈنمارک کا کارٹونسٹ ’’کورٹ فسٹرگارڈ‘‘، جسے ایک صومالی مہاجر مسلمان نے تین سال پہلے اس کے گھر میں گھس کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی مگر وہ گرفتار ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا اور اس مسلمان کو 10سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اس میگزین میں گستاخی کی مرتکب مجرم عورتوں کے صرف نام لکھے گئے ہیں اور ان کی تصاویر کو نشر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے کہ عورتوں کی تصاویر کو نشر کرنا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔ باقی تمام گستاخوں کے نام اور ان کی تصاویر کو نشر کیا گیا ہے تاکہ مسلمان ان گستاخوں تک پہنچ کر ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور توہین رسالت کا انتقام اور بدلہ لے سکیں۔

رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرم دہشت گردوں کی فہرست کو یہاں سے دیکھیں، جو جماعت القاعدۃ کو زندہ یا مردہ حالت میں مطلوب ہیں:


القاعدہ کے ہیکرز نے اسرائیل میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سے زائد سرور اور متعدد یہودی ویب سائٹیں ہیک کرلی

القاعدہ کے ہیکرز نے اسرائیل میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سے زائد سرور اور متعدد یہودی ویب سائٹیں ہیک کرلی

نیوز رپورٹ

القاعدہ کے غزہ ہیکرز نے مسجد اقصی میں قرآن کی توہین اور اپنے بہادر شہداء کا انتقام لینے کے لیے گزشتہ روز اسرائیل میں نیٹ فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کی سروس ہیک کرتے ہوئے ہزاروں گیگا بائٹ ڈیٹا حاصل کرلیا۔ نیز اسرائیل میں ہزاروں صارفین کو نیٹ سے محروم اور کمیونیکیشن کی بیسیوں کمپنیوں کی سروسز کو معطل کردیا ہے۔

اس کے علاوہ القاعدہ کی غزہ ہیکرذ ٹیم نے الحمدللہ اسرائیل میں نیٹ فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کے 250 سرورز کو ناکارہ بناتے ہوئے انہیں خراب کردیا ہے، جس کی وجہ سے اگلے کئی دنوں تک یہ سرورز نیٹ کی خدمات فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔ ان شاء اللہ

اسرائیل میں نیٹ اور ہوسٹنگ فراہم کرنے والی کمپنی کی مرکزی ویب سائٹیں، جنہیں ہیک کیا گیا۔

http://www.dns.net.il

http://www.isp.net.il

netguard.net.il

yars.net

اسرائیل میں نیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سرور جن کی خدمات کو معطل کردیا گیا ہے:

isp Israel Servers :
195.60.232.0 R.L. Ltd.
195.60.232.1 R.L. Ltd.
195.60.232.2 R.L. Ltd.
195.60.232.3 R.L. Ltd.
195.60.232.4 R.L. Ltd.
195.60.232.5 R.L. Ltd.
195.60.232.6 R.L. Ltd.
195.60.232.7 R.L. Ltd.
195.60.232.8 R.L. Ltd.
195.60.232.9 R.L. Ltd.
195.60.232.10 R.L. Ltd.
195.60.232.11 R.L. Ltd.
195.60.232.12 R.L. Ltd.
195.60.232.13 R.L. Ltd.
195.60.232.14 R.L. Ltd.
195.60.232.15 R.L. Ltd.
195.60.232.16 R.L. Ltd.
195.60.232.17 R.L. Ltd.
195.60.232.18 R.L. Ltd.
195.60.232.19 R.L. Ltd.
195.60.232.20 R.L. Ltd.
195.60.232.21 R.L. Ltd.
195.60.232.22 R.L. Ltd.
195.60.232.23 R.L. Ltd.
195.60.232.24 R.L. Ltd.
195.60.232.25 R.L. Ltd.
195.60.232.26 R.L. Ltd.
195.60.232.27 R.L. Ltd.
195.60.232.28 R.L. Ltd.
195.60.232.29 R.L. Ltd.
195.60.232.30 R.L. Ltd.
195.60.232.31 R.L. Ltd.
195.60.232.32 R.L. Ltd.
195.60.232.33 R.L. Ltd.
195.60.232.34 R.L. Ltd.
195.60.232.35 R.L. Ltd.
195.60.232.36 R.L. Ltd.
195.60.232.37 R.L. Ltd.
195.60.232.38 R.L. Ltd.
195.60.232.39 R.L. Ltd.
195.60.232.40 R.L. Ltd.
195.60.232.41 R.L. Ltd.
195.60.232.42 R.L. Ltd.
195.60.232.43 R.L. Ltd.
195.60.232.44 R.L. Ltd.
195.60.232.45 R.L. Ltd.
195.60.232.46 R.L. Ltd.
195.60.232.47 R.L. Ltd.
195.60.232.48 R.L. Ltd.
195.60.232.49 R.L. Ltd.
195.60.232.50 R.L. Ltd.
195.60.232.51 R.L. Ltd.
195.60.232.52 R.L. Ltd.
195.60.232.53 R.L. Ltd.
195.60.232.54 R.L. Ltd.
195.60.232.55 R.L. Ltd.
195.60.232.56 R.L. Ltd.
195.60.232.57 R.L. Ltd.
195.60.232.58 R.L. Ltd.
195.60.232.59 R.L. Ltd.
195.60.232.60 R.L. Ltd.
195.60.232.61 R.L. Ltd.
195.60.232.62 R.L. Ltd.
195.60.232.63 R.L. Ltd.
195.60.232.64 R.L. Ltd.
195.60.232.65 R.L. Ltd.
195.60.232.66 R.L. Ltd.
195.60.232.67 R.L. Ltd.
195.60.232.68 R.L. Ltd.
195.60.232.69 R.L. Ltd.
195.60.232.70 R.L. Ltd.
195.60.232.71 R.L. Ltd.
195.60.232.72 R.L. Ltd.
195.60.232.73 R.L. Ltd.
195.60.232.74 R.L. Ltd.
195.60.232.75 R.L. Ltd.
195.60.232.76 R.L. Ltd.
195.60.232.77 R.L. Ltd.
195.60.232.78 R.L. Ltd.
195.60.232.79 R.L. Ltd.
195.60.232.80 R.L. Ltd.
195.60.232.81 R.L. Ltd.
195.60.232.82 R.L. Ltd.
195.60.232.83 R.L. Ltd.
195.60.232.84 R.L. Ltd.
195.60.232.85 R.L. Ltd.
195.60.232.86 R.L. Ltd.
195.60.232.87 R.L. Ltd.
195.60.232.88 R.L. Ltd.
195.60.232.89 R.L. Ltd.
195.60.232.90 R.L. Ltd.
195.60.232.91 R.L. Ltd.
195.60.232.92 R.L. Ltd.
195.60.232.93 R.L. Ltd.
195.60.232.94 R.L. Ltd.
195.60.232.95 R.L. Ltd.
195.60.232.96 R.L. Ltd.
195.60.232.97 R.L. Ltd.
195.60.232.98 R.L. Ltd.
195.60.232.99 R.L. Ltd.
195.60.232.100 R.L. Ltd.
195.60.232.101 R.L. Ltd.
195.60.232.102 R.L. Ltd.
195.60.232.103 R.L. Ltd.
195.60.232.104 R.L. Ltd.
195.60.232.105 R.L. Ltd.
195.60.232.106 R.L. Ltd.
195.60.232.107 R.L. Ltd.
195.60.232.108 R.L. Ltd.
195.60.232.109 R.L. Ltd.
195.60.232.110 R.L. Ltd.
195.60.232.111 R.L. Ltd.
195.60.232.112 R.L. Ltd.
195.60.232.113 R.L. Ltd.
195.60.232.114 R.L. Ltd.
195.60.232.115 R.L. Ltd.
195.60.232.116 R.L. Ltd.
195.60.232.117 R.L. Ltd.
195.60.232.118 R.L. Ltd.
195.60.232.119 R.L. Ltd.
195.60.232.120 R.L. Ltd.
195.60.232.121 R.L. Ltd.
195.60.232.122 R.L. Ltd.
195.60.232.123 R.L. Ltd.
195.60.232.124 R.L. Ltd.
195.60.232.125 R.L. Ltd.
195.60.232.126 R.L. Ltd.
195.60.232.127 R.L. Ltd.
195.60.232.128 R.L. Ltd.
195.60.232.129 R.L. Ltd.
195.60.232.130 R.L. Ltd.
195.60.232.131 R.L. Ltd.
195.60.232.132 R.L. Ltd.
195.60.232.133 R.L. Ltd.
195.60.232.134 R.L. Ltd.
195.60.232.135 R.L. Ltd.
195.60.232.136 R.L. Ltd.
195.60.232.137 R.L. Ltd.
195.60.232.138 R.L. Ltd.
195.60.232.139 R.L. Ltd.
195.60.232.140 R.L. Ltd.
195.60.232.141 R.L. Ltd.
195.60.232.142 R.L. Ltd.
195.60.232.143 R.L. Ltd.
195.60.232.144 R.L. Ltd.
195.60.232.145 R.L. Ltd.
195.60.232.146 R.L. Ltd.
195.60.232.147 R.L. Ltd.
195.60.232.148 R.L. Ltd.
195.60.232.149 R.L. Ltd.
195.60.232.150 R.L. Ltd.
195.60.232.151 R.L. Ltd.
195.60.232.152 R.L. Ltd.
195.60.232.153 R.L. Ltd.
195.60.232.154 R.L. Ltd.
195.60.232.155 R.L. Ltd.
195.60.232.156 R.L. Ltd.
195.60.232.157 R.L. Ltd.
195.60.232.158 R.L. Ltd.
195.60.232.159 R.L. Ltd.
195.60.232.160 R.L. Ltd.
195.60.232.161 R.L. Ltd.
195.60.232.162 R.L. Ltd.
195.60.232.163 R.L. Ltd.
195.60.232.164 R.L. Ltd.
195.60.232.165 R.L. Ltd.
195.60.232.166 R.L. Ltd.
195.60.232.167 R.L. Ltd.
195.60.232.168 R.L. Ltd.
195.60.232.169 R.L. Ltd.
195.60.232.170 R.L. Ltd.
195.60.232.171 R.L. Ltd.
195.60.232.172 R.L. Ltd.
195.60.232.173 R.L. Ltd.
195.60.232.174 R.L. Ltd.
195.60.232.175 R.L. Ltd.
195.60.232.176 R.L. Ltd.
195.60.232.177 R.L. Ltd.
195.60.232.178 R.L. Ltd.
195.60.232.179 R.L. Ltd.
195.60.232.180 R.L. Ltd.
195.60.232.181 R.L. Ltd.
195.60.232.182 R.L. Ltd.
195.60.232.183 R.L. Ltd.
195.60.232.184 R.L. Ltd.
195.60.232.185 R.L. Ltd.
195.60.232.186 R.L. Ltd.
195.60.232.187 R.L. Ltd.
195.60.232.188 R.L. Ltd.
195.60.232.189 R.L. Ltd.
195.60.232.190 R.L. Ltd.
195.60.232.191 R.L. Ltd.
195.60.232.192 R.L. Ltd.
195.60.232.193 R.L. Ltd.
195.60.232.194 R.L. Ltd.
195.60.232.195 R.L. Ltd.
195.60.232.196 R.L. Ltd.
195.60.232.197 R.L. Ltd.
195.60.232.198 R.L. Ltd.
195.60.232.199 R.L. Ltd.
195.60.232.200 R.L. Ltd.
195.60.232.201 R.L. Ltd.
195.60.232.202 R.L. Ltd.
195.60.232.203 R.L. Ltd.
195.60.232.204 R.L. Ltd.
195.60.232.205 R.L. Ltd.
195.60.232.206 R.L. Ltd.
195.60.232.207 R.L. Ltd.
195.60.232.208 R.L. Ltd.
195.60.232.209 R.L. Ltd.
195.60.232.210 R.L. Ltd.
195.60.232.211 R.L. Ltd.
195.60.232.212 R.L. Ltd.
195.60.232.213 R.L. Ltd.
195.60.232.214 R.L. Ltd.
195.60.232.215 R.L. Ltd.
195.60.232.216 R.L. Ltd.
195.60.232.217 R.L. Ltd.
195.60.232.218 R.L. Ltd.
195.60.232.219 R.L. Ltd.
195.60.232.220 R.L. Ltd.
195.60.232.221 R.L. Ltd.
195.60.232.222 R.L. Ltd.
195.60.232.223 R.L. Ltd.
195.60.232.224 R.L. Ltd.
195.60.232.225 R.L. Ltd.
195.60.232.226 R.L. Ltd.
195.60.232.227 R.L. Ltd.
195.60.232.228 R.L. Ltd.
195.60.232.229 R.L. Ltd.
195.60.232.230 R.L. Ltd.
195.60.232.231 R.L. Ltd.
195.60.232.232 R.L. Ltd.
195.60.232.233 R.L. Ltd.
195.60.232.234 R.L. Ltd.
195.60.232.235 R.L. Ltd.
195.60.232.236 R.L. Ltd.
195.60.232.237 R.L. Ltd.
195.60.232.238 R.L. Ltd.
195.60.232.239 R.L. Ltd.
195.60.232.240 R.L. Ltd.
195.60.232.241 R.L. Ltd.
195.60.232.242 R.L. Ltd.
195.60.232.243 R.L. Ltd.
195.60.232.244 R.L. Ltd.
195.60.232.245 R.L. Ltd.
195.60.232.246 R.L. Ltd.
195.60.232.247 R.L. Ltd.
195.60.232.248 R.L. Ltd.
195.60.232.249 R.L. Ltd.
195.60.232.250 R.L. Ltd.
195.60.232.251 R.L. Ltd.
195.60.232.252 R.L. Ltd.
195.60.232.253 R.L. Ltd.
195.60.232.254 R.L. Ltd.
195.60.232.255 R.L. Ltd.

ویب سائٹ کے مرکزی پیچ پر اسرائیل کی جیل میں شہید ہونے والی فلسطینی کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ’’ہم کبھی جھکیں گے نہیں، خواہ ہمارے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردو‘‘ والی نظم لکھ ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک ایک صہیونی فوجی بھی فلسطین میں ہے اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔ صفحے کے آخر میں القاعدہ کی غزہ ہیکرز ٹیم کے دستخط ہے، جو یہ ہے

 :




Friday, March 1, 2013

قوم ثمود کی عذاب گاہ سے سعودی حکومت نے رقم کمانے کا منصوبہ بنا لیا

قوم ثمود کی عذاب گاہ سے سعودی حکومت نے رقم کمانے کا منصوبہ بنا لیا

 

الحجر(اے ایف پی)سیاہ حجاب میں مکمل طورپر ملبوس آئرلینڈکی گوری انجیلا مس کیلی نے سعودی عرب کے قدیم شہر الحجر (مدائن صالح)کا دورہ کرتے ہوئے پتھریلے پہاڑوں میں بنی قدیم مقبروں والے اس شہرکی تاریخی اہمیت کو نمایاں طورپر اجاگرکردیا یہ وہ جگہ ہے جسے عذاب کی جگہ قرار دیا جاتا ہے اور یہاں کی قوم پر اللہ نے عذاب نازل کر کے اسے تباہ کردیا تھا۔ اس جگہ سے پیغمبر اسلام نے جلد گزرنے اور قیام نہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر سعودی  حکومت اب اسے رقم کمانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔علاوہ ازیں سعودی عرب نے طویل عرصے تک چھپے رکھے گئے آثارقدیمہ کے کھنڈرات تک جانے کی اجازت دے دی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق مس کیلی نے الحجر کے قدیم تاریخی مقبروں کا دورہ کرتے ہوئے بے ساختہ کہا کہ یہ علاقہ” قابل دید…حیرت انگیز…اوردلکش ہے لیکن سیاح کہاں ہیں؟ اگرہمارے ملک میں ایساتاریخی مقام ہوتا توہمارے ہاں لاکھوں سیاح ہوتے!رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی مقام،جہاں قوم ثمودکی قبریں،دنیا کی عظیم قوموں کے قصہ پارینہ بن جانے کی یاددلاتی ہے،مغربی شہرمدینہ منورہ سے 320کلومیٹرشمال میں واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق اس قدیم شہر(الحجر) یا مدائن صالح کا ذکر قرآن پاک میں سورة الحجر میں بھی آیا ہے۔

 

Monday, February 25, 2013

Earth From Sky - Beautiful!


The project of Yann Arthus-Bertrand "Earth seen from heaven" experienced a huge public success. This method revealed till then unknown wonderful colors and symmetry. The scenes captured by the cameras are amazing. "The Earth seen from the sky" is, currently, one of the best selling books of photographs in the world with over of 3 million copies printed in 24 countries.




















Now lets see a selection of some of the best shots!

Tuesday, February 5, 2013

ضروری اعلان


کراچی کے مختلف علاقوں میں CHIUOکے نام سے پیمپرز فروخت ہو رہے ہیں مگر بہت کم لوگوں کو اس بات کاعلم ہے کہ اگر اس پیپمر کو دوسری طرف سے دیکھا جائے تو اس پر لفظ اللہ واضح طور پر لکھا نظر آئے گا۔تمام مسلمان بہن اور بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے بچوں کیلئے پیپرز خریدتے وقت ضرور دیکھ لیں۔اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کریں۔

Monday, February 4, 2013

حفاظت کے بہانے فرانسیسی فوج نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں پر قابض


فرانسیسی فوج نے نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانسیسی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں فیصلہ الجزائر میں گیس کمپلکس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کیا گیا تھا۔نائجر کے صدر محمد یوسف نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی فوج نے نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ نائجر یورینیم کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں پانچویں مقام پر ہے تین سال قبلاسلام پسندوں نے اس کمپنی کی ایک کان سے چار فرانسیسی شہریوں کو اغوا کر لیا تھا۔ ادھر فرانس کی فضائیہ نے مالی کے شمالی علاقوں میں اسلام پسندوں کے مورچوں پر بمباری کی ہے۔ اتوار کے روز جنگجوؤں کے تربیتی مراکز اور گوداموں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

Monday, January 7, 2013

گستاخانہ فلم کے جواب میں عرب نوجوان نے منفرد ویڈیوتیار کر لی



اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب امن پسند نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام کو تشدد کا مذہب قرار دیتے ہیں انھوں نے اسلام اور اس کی تعلیمات کا مطالعہ نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار امریکا میں پیدا ہونے والے ایک عراقی مسلمان، جس کے والدین عیسائی ہیں، نے اُس ویڈیو دستاویزی فلم میں کیا ہے جو عبیر علی نامی ایک عرب مسلمان نوجوان نے تیار کی ہے۔عبیر نے یہ دستاویزی فلم امریکا میں بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کے جواب میں بنائی ہے جس نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو غم ناک اور غضب ناک بنا دیا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخی سے جہاں تمام مسلمانوں کے دل تڑپ اٹھے ہیں وہاں اُن کے اندر یہ جذبہ بھی بیدار ہوا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کو اسلام دشمن قوتوں کے مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔امریکی پادریوں اور قبطیوں کی شیطانی فلم کے ردعمل میں لاکھوں مسلمانوں نے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن عرب نوجوان عبیر نے اس گستاخانہ فلم کے مقابلہ میں ایک مختصر دورانیہ کی ویڈیو بنائی ہے۔ یہ ایک دستاویزی فلم ہے جو انگریزی زبان میں تیار کی گئی ہے۔ اس دستاویزی فلم میں پیغمبراسلام اور قرآن پاک کے بارے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آراء حاصل کی گئی ہیں۔ ویڈیو فلم میں اسلام کے تصور، صبر، حلم اور بردباری کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے۔فلم سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر مسلم نوجوان مذہب اسلام کو کرۂ ارض کا سب سے زیادہ برداشت اور تلقین کا مذہب ماننے پر مجبور ہیں کیونکہ اسلام کی تعلیمات نے اُن کو یہ بتایا ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت مل جل کر رہنے اور آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ ویڈیو فلم میں پوری اسلامی دنیا میں اشتعال کا مُوجب بننے والی گستاخانہ فلم کی طرف توجہ مبذول کرانے والے سوالات غیر مسلم نوجوانوں سے پوچھے گئے ہیں۔سوال پوچھنے پر اس نے جواب میں کہا ’’اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پر مبنی مہم محض تعصب اور تنگ نظری کا شاخسانہ ہے۔‘‘ ایک دوسرے غیر مسلم نوجوان نے کہا کہ چونکہ عام لوگ ذرائع ابلاغ سے زیادہ متاثر رہتے ہیں اور میڈیا جس انداز میں اسلام اور اس کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کر تا ہے، وہ یقینا عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ خود لوگوں کو اسلام کا مطالعہ کرنے کا موقع کم سے کم ملتا ہے۔ اس لیے وہ میڈیا کی کہی سنی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ایک اور غیر مسلم کے مطابق غیر مسلم ذرائع ابلاغ اور سخت گیر مذہبی شخصیات اسلام اور پیغمبراسلام حضرت محمدؐ کے خلاف توہین آمیز رویہ اس لیے روا رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ تنگ نظر اور مذہبی انتہاپسند اور متعصب ذہنیت کے مالک ہیں۔ دستاویزی ویڈیو فلم میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان قدامت پسند نہیں بلکہ ترقی پسند ہیں۔ دبئی شہر اور اس میں تعمیر ہونے والا خلیفہ ٹاور (برج الخلیفہ) مسلمانوں کی تمدنی ترقی کی روشن مثال ہے جبکہ دبئی ایک ایسے بین الاقوامی شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں ۲۰۰ ممالک کے شہری ایک خاندان کے افراد کی شکل میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان تمام سوالات کا جواب یہی ہے کہ اسلام برداشت، صبر، حلم و بردباری کا دینہے۔ اسلام نفرت نہیں بلکہ محبت بانٹنے کا مذہب ہے۔
ایک آسٹریلین غیر مسلم کا کہنا ہے کہ اس نے مسلمانوں سے ملنے سے قبل ذہن میں یہ سوچ رکھا تھا کہ مسلمان وحشی ہوتے ہیں اور میں جب اور جہاں کہیں بھی ان سے ملوں گا وہ مجھے اذیت پہنچائیں گے لیکن اب میں مسلمانوں میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتا ہوں۔عبیر علی کی یہ دستاویزی ویڈیو ’’یوٹیوب‘‘ پر ’’ہمارے بولنے کا وقت آگیا‘‘ کے عنوان سے موجود ہے۔

Sunday, December 9, 2012

میڈیا پر قبضہ: دو سو اہم پاکستانی صحافیوں کو امریکہ برطانیہ تربیت دے رہے ہیں۔ خصوصی رپورٹ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں  امریکی فتح کے لئے ’’عوامی سفارت کاری‘‘ نامی منصوبے کے تحت پاکستانی صحافتی اداروںمیں اہم  ذمہ داریاںادا کرنے  والے تمام صحافیوں  کو امریکہ وبرطانیہ لے جا کر خصوصی تربیت دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں دو سو سے زائد پاکستانی صحافی امریکہ و برطانیہ میں اس وقت تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ اس نمائندے کو ملنے والی دستاویزات کے مطالعے سے حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ ماضی قریب میں، ایسے پاکستانی صحافی، جنہیں قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کے الزامات کے  تحت قومی اداروں کی پوشیدہ کارروائیوں اور تشدد کا سامنا رہا، وہ اس پروگرام کے تحت امریکہ یا برطانیہ میں تربیت حاصل کرچکے  تھے۔دستاویزات کے مطالعے سے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی ہوتا ہے کہ ماضی میں غیر ملکی اداروں کی جانب سے دی جانے والی اسکالر شپس پاکستانی طلباء کے لئے ہوتی تھیں مگراب امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے دی گئی ان اسکالر شپس میں صاف طور پر لکھا ہے کہ یہ صحافت کے طلباء کے لئے نہیں بلکہ صرف ان پاکستانی صحافیوں کے  لئے ہیں جو کسی بھی پاکستانی صحافتی ادارے میں اہم ذمہ داری پر فائزہوں، تربیت کے بعد انہیں  ہر حال میں  پاکستان واپس آ کر اپنی اس ملازمت کو جاری رکھنا ہو گا۔ واشنگٹن میں پاکستانی صحافتی حلقوں نے بھی اس حیرت انگیز امریکی پروگرام کے بارے میں تفصیلات  اس نمائندے کوبتاتے ہوئے، اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اگر یہ پروگرام منصوبے کے مطابق جاری رہتا  ہے تو پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک بن جائے گا، جس کے تمام  صحافتی اداروں کے اکثر اہم افراد امریکہ اور برطانیہ سے، دہشت  گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے خصوصی تربیت  حاصل کر چکے ہوں گے۔ پاکستانی صحافیوں کے لئے جاری کردہ داخلہ فارمز میں امریکی اور برطانوی اداروںنے واضح طور پر لکھا ہے کہ اس تربیت اور امریکہ و برطانیہ کے دورے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں موثر کردار ادا کرنے کے لئے رائے عامہ کے رہنمائوں اور پالیسی سازوں کو تیار کرنا ہے۔ واشنگٹن کے پاکستانی صحافتی حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس پروگرام کے خالق دراصل ایک پاکستانی  وفاقی وزیر ہی ہیں، انہوں نے ہی یہ حیرت انگیز تجویز  واشنگٹن میں ہونے والے تین روزہ اسٹریٹجک مذاکرات میں پیش کی تھی، جسے امریکیوںنے نا صرف فورا قبول کیا بلکہ رواں برس سے عمل درآمد بھی شروع کردیا۔ مذکورہ وزیر نے21 اکتوبر2010  کو واشنگٹن میں پاکستانی صحافیوں سے گفتگو میں فخریہ اس بات کا تذکرہ کیا تھا اور اگلے روز کے کئی اخبارات نے یہ خبر بھی شائع کی تھی۔امریکی انڈر سیکریٹری جوڈتھ مائیکل، اب اس پروگرام کے بڑے حصے کے ذمہ دار ہیں،اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران بھی وہی پاکستانی وفاقی وزیر قمر الزماں کائرہ کے ساتھ ان معاملات پر مذاکرات میں اپنے عملے کی سربراہی کررہے تھے۔ برطانیہ کے ایک اور امریکہ کے تین مختلف اداروں کے تعاون سے جاری اس انوکھے پروگرام کے بارے میں، اس نمائندے نے چاروں متعلقہ اداروں سے تصدیق چاہی تو ہر ایک ادارے نے پورے اعتماد کے ساتھ  اپنے اس پروگرام کی تصدیق کی۔ تمام اہم پاکستانی صحافیوں کو تربیت دینے کے لئے سب سے زیادہ سرگرم اس وقت امریکی محکمہ خارجہ ہے، یہ محکمہ ہر سال125  پاکستانی صحافیوں کو ایک سال کے لئے امریکہ لے جا رہا ہے۔ پاکستان میں یو ایس ایجوکیشن فائونڈیشن اس معاملے کو ڈیل کرتی ہے۔ معلومات کے حصول کے لئے کی گئی ای میل کے جواب میں یو ایس ایجوکیشن فائونڈیشن نے اپنی ویب سائٹ کے وزٹ کا مشورہ دیا، وہاں موجود تفصیلات  اس پروگرام کی جزئیات کی تصدیق کرتی ہیں۔ ویب سائٹ پر شرائط کے ضمن میں واضح لکھا ہے کہ صرف وہ پاکستانی صحافی اس پروگرام کے لئے اہل ہیں جو کم از کم پانچ برس سے میڈیا سے منسلک  ہوں اور اس وقت کسی بھی اخبار یا صحافتی ادارے میں کسی اہم ذمہ داری پر فائز ہوں۔اس پروگرام کے تحت دو سال کی تربیت دی جارہی ہے۔

Saturday, November 3, 2012

.....ملالہ پر ہمیں کوئی ملال نہیں.....

.....ملالہ پر ہمیں کوئی ملال نہیں.....

تحریر: ام ہانی

ہر طرف غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے، پوری دنیا سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ کافر ہوں یا مسلمان، ہر کوئی غم کے آنسو بہارہا ہے، ہر طرف سے مذمتی بیانات جاری کئے جارہے ہیں۔ مساجد سے لے کر اسکول کالجوں تک، مندروں سے لے کر گرجا گھروں تک، ہر جگہ دعائیہ اجتماعات منعقد ہورہے ہیں۔ ذمہ داروں کو عبرتناک سزا دینے کی نویدیں سنائی جارہی ہیں۔ وزیر داخلہ پاکستان سے لے کر وزیرخارجہ امریکہ تک، صدرِ پاکستان سے لے کر صدر افغانستان تک، اقوام متحدہ سے لے کر یورپی یونین تک، حتی کہ صدرِ امریکہ سے لے کر امریکی گلوکارہ میڈونا تک، ہر کوئی غمِ فراق میں گھلا جارہا ہے۔ کیونکہ سوات کی رہنے والی ایک چودہ پندرہ سالہ:
.....معصوم سی لڑکی.....
ملالہ یوسف زئی کو معاشرے میں انتہاپسند کہلانے والے چند لوگوں نے سر پر گولی مار کر قتل کرنے کی کوشش کی!

سوال یہ ہے کہ آخر ملالہ کو کس جرم کی پاداش میں گولی ماری گئی؟ اس کا ایسا کیا قصور تھا کہ اس کو یہ سزا دی گئی؟ اس نے ایسا کونسا فعل انجام دیا تھا جس بناء پر صنف نازک ہونے کے باوجود اس کے ساتھ ایسا کیا گیا؟ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جامعہ حفصہ کی ہزاروں معصوم بچیوں کو قتل کرکے فاسفورس بموں سے جلانے والے، مظلوم ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ کے حوالے کرنے والے، معصوم آمنہ کو اس کے خواہش کے برعکس اس کی کافر والدہ کے حوالے کرنے والے، مہاجرین ِسوات کے کیمپوں سے نوجوان لڑکیوں کو اغواء کرکے قحبہ خانوں کی زینت بنانے والے، عراق میں دوائیاں روک کر دس لاکھ عراقی بچوں کو موت کی نیند سلانے والے، آخر آج ملالہ کے غم میں کیوں گھلے جارہے ہیں؟؟
حقیقت یہ ہے کہ ملا لہ کا جرم یہ تھا کہ وہ دہشت گردی کے نام پر فرعونِ وقت امریکہ کی بپا کردہ صلیبی جنگ میں، نفاذ شریعت کے لئے کھڑے ہونے والے لوگوں کے خلاف حکومت پاکستان اور افواجِ پاکستان کی طرح، اپنی زبان اور قلم سے امریکہ کے لئے ہراول سپاہی کا کردار ادا کرہی تھی۔ ملالہ کا باپ بھی اس جرم میں برابر کا شریک تھا۔ اس نے بھی نفاذ شریعت کے لئے کھڑے ہونے والوں کے خلاف جرگہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگر کوئی اس حقیقت کا انکاری ہے تو اس کا ثبوت ملالہ کے حق میں طوفان بپا کرنے والے الیکٹرانک میڈیا سے ہی مل جائے گا۔

   روزنامہ امت کراچی میں ملالہ یوسف زئی پر13/10/2012 شائع ہونے والی رپورٹ میں کچھ یوں لکھا تھا:

”مینگورہ کے ایک سینئر صحافی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ ملالہ ایک حساس لڑکی ہے اور ذہین بھی، مگر اس کی ڈائریوں میں بھی اور بعد میں اس کے تمام معاملات میں اس کے والد کا ضرورت سے زیادہ اعتماد اورغیر محتاط رویہ تھا، جس نے ملالہ کو خطرے کی زد میں لاکھڑا کیا۔ ذرائع کے مطابق مینگورہ کی میڈیا برادری کو اس بات کا علم ہے کہ ملالہ کی بیشتر ڈائریاں اس کے والد کی لکھی ہوئی ہیں۔ ڈائری کی زبان اور رائٹنگ ایک چوتھی جماعت کی بچی کے دماغ کی عکاس نہیں ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ ایک ڈائری میں ملالہ کی جانب سے یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’برقع‘‘ پتھر کے دور کی یادگار ہے اور داڑھی دیکھ کر ’’فرعون‘‘ یا د آجاتا ہے“۔

اسی طرح 11اکتوبر 2012 روز نامہ امت کراچی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کچھ یوں لکھا تھا:

سوات کے ایک اور ذمہ دار صحافی نے ’’امت‘‘ کو بتایا کہ ملالہ کے حوالے سے حالات خراب کرنے کی ذمہ داری غیر ملکی اور ملکی الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ غیر ملکی این جی او کی بھی ہے، جو اس بچی کے نام سے اپنے مطلب کی چیزیں چلاتے رہے۔ اس معاملے میں ملالہ کے قریبی عزیز بھی شریک ہیں، ورنہ 2009ء میں 9 برس کی ملالہ کی ’’ڈائریاں‘‘ پڑھیں (جوکہ اس وقت بی بی سی پر شائع ہوتی تھیں) تو وہ جس پختہ سوچ کی عکاس ہیں، وہ ایک بچی کی نہیں۔ ان (صحافی ) کے بقول اوباما کو ہیرو قرار دینے والا انٹرویواس بچی کا نہیں بلکہ وہ گواہ ہیں کہ بعض مواقع پر اسے لکھ کر دیا جاتا تھا اور بعض اوقات تو ریکارڈنگ روک کر بتایا جاتا تھا کہ وہ یہ بات کہے۔ ایسے میں ان کے نزدیک ملالہ پر حملوں کی ذمہ داری مسلح افرادکے ساتھ ان پر بھی عائد ہوتی ہے، جنہوں نے ایک ’’عالمی کھیل‘‘ میں اس معصوم بچی کو استعمال کیا.ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی (طالبان کے خلاف بننے والے) سوات قومی جرگہ کے مرکزی ترجمان اور ایک این جی او’’گلوبل پیس کونسل
‘‘(Globle Peace Concil) کے صدر ہیں“۔

چنانچہ ان خدمات پرملالہ یوسف زئی کو ملکی اور غیر ملکی طور پر مختلف ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 19دسمبر 2011ء کو اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نے ملالہ کو پہلے (Pakistan’s National Peace Prize) کے ایوارڈ سے نوازا اور 2011ء میں اس کو عالمی طورپر (International Children's Peace Prize) بھی عطا کیا گیا اور 3جنوری 2012ء کو حکومت پاکستان نے ملالہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سوات کے ایک گورنمنٹ اسکول کو اس کے نام سے منسوب کردیا۔
قرآن و سنت سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جو شخص بھی شریعت کے نفاذ کے لئے کھڑے ہونے والے مسلمانوں کے خلاف یہود ونصاریٰ کا ساتھ دے، چاہے وہ زبان وقلم کے ذریعے ہو یا پھر لاجسٹک سپورٹ کے ذریعے ہو، وہ بااتفاق امت ”کافر ومرتد“ قرار پاتا ہے۔ اس کے جان کی حرمت ختم ہوجاتی ہے اور اس کا حکم یہود نصاریٰ جیسے کافروں کا ہوجاتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} [المائدة : 51]

”اے اہل ایمان! یہود ونصارٰی کو دوست نہ بناؤ۔ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے گا وہ بے شک انہی میں سے ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہرگز ہدایت عطا نہیں فرماتا“۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

’’فَقَالَ تَعَالَى ذِكْرُهُ لِلْمُؤْمِنِينَ: فَكُونُوا أَنْتُمْ أَيْضًا بَعْضُكُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ, وَلِلْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ حَرْبًا كَمَا هُمْ لَكُمْ حَرْبٌ, وَبَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَوْلِيَاءُ‘‘۔ (تفسیر الطبری:۶/۶۷۲،۷۷۲)

’’اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ جو مسلمان اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو اور مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا حمایتی، مددگار اور دوست بنائے گا تو اس کے نتیجے میں وہ ان یہودی اور عیسائی کافروں کی جماعت کا ہی فرد گردانا جائے گا‘‘۔

مشہور مفسر قرآن امام قرطبی رحمہ اللہ سورۃ المائدۃ کی آیت51 کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قَوْلُهُ تَعَالَى: (وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ) أَيْ يَعْضُدْهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ (فَإِنَّهُ مِنْهُمْ) بَيَّنَ تَعَالَى أَنَّ حُكْمَهُ كَحُكْمِهِمْ‘‘ (تفسیر القرطبی:ج۶ص۷۱۲)

’’اللہ تعالیٰ کے فرمان (جو کوئی تم میں سے اُن کو دوست بنائے) کا مطلب ہے کہ جو شخص بھی مسلمانوں کے خلاف کافروں کو قوت، طاقت اور ہر طرح کی (لاجسٹک) مدد فراہم کرتا ہے تو (تو وہ اُن ہی میں سے ہے) یعنی وہ انہی میں سے شمارکیا جائے گا۔ گویا اللہ رب العزت نے بڑی وضاحت سے فرمادیا ہے کہ اس کے ساتھ وہی رویہ برتا جائے گا جو ان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ برتا جائے گا‘‘۔

چنانچہ مفسر قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:

((قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ مُشْرِكٌ مِثْلُهُمْ لِأَنَّ مَنْ رَضِیَ بِالشِّرْکِ فَھُوَ مُشْرِکٌ))

’’جوکسی کافر ومشرک سے دوستی کرے گا وہ ان کی طرح کا ہی مشرک ہوگا، اس لیے کہ جو شرک کو پسند کرتا ہے وہ بھی مشرک ہوتا ہے۔‘‘ (تفسیر القرطبی:۸/۳۹-۴۹، تفسیر فتح القدیر للشوکانی:۱/۹۲۵)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

((مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ، فَهُوَ مِنْهُمْ، وَمِنْ رَضِيَ عَمَلَ قَوْمٍ كَانَ شَرِيكَ مَنْ عَمِلَ بِهِ)) (کنز العمال،ج: ۹،ص:۲۲،رقم:۵۳۷۴۲۔ مسند ابی یعلٰی،نصب الرایہ:۴/۶۴۳)

’’جو شخص کسی گروہ (میں شامل ہوکر ان) تعداد بڑھائے وہ اُن ہی میں سے ہے اور جو کسی گروہ کے عمل پر راضی رہے وہ ان کے عمل میں شریک ہے‘‘۔

دوسری طرف شریعت کے احکامات کا استہزاء اور مذاق اڑانے والوں کا حکم بھی سن لیجئے:

{وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ.لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ} (التوبة: 65-66)

’’اور اگر آپ ان (مذاق اڑانے والوں) سے پوچھیں کہ کیا باتیں کررہے تھے؟ تو کہہ دیں گے کہ ہم تو صرف مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ آپ ان سے کہیے کہ کیا تمہاری ہنسی اور دل لگی اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ہوتی ہے۔ بہانے نہ بناؤ، تم فی الواقع ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو‘‘۔

بہت سے لوگوں کو یہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ ملالہ یوسف کے باپ کا تو قصور سمجھ آتا ہے مگر خود ملالہ تو ایک معصوم بچی تھی، اور اسلام تو کافروں کی عورتوں اور بچوں کی جان لینے سے بھی منع کرتا ہے تو کس طرح ایک مسلمان بچی کا خون بہانا حلال ہوگیا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح شریعت میں کفار کا ساتھ دینے والے کا حکم انہی کفار کے حکم جیسا ہے، بالکل اسی طرح کفار کا ساتھ دینے والے مرتدین کی عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانے کا حکم بھی انہی کفار کی عورتوں اور بچوں جیسا ہے۔ وہ حکم یہ ہے کہ بلاضرورت ان کفار کا، اور ان کا ساتھ دینے والے مرتدین کی عورتوں اور بچوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کفار کی عورتوں اور بچوں کا تحفظ بطور ان کی جان کی حرمت کی بناء پر نہیں بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے مال غنیمت بن سکتے ہیں جبکہ مرتدین کی عورتوں اور بچوں کا تحفظ اگر کسی صورت ممکن ہے تو وہ ان کا مسلمان ہونا ہے۔

چنانچہ شریعت میں کفار ومرتدین کے معصوم الدّم لوگوں یعنی ان کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں وغیرہ کا قتل کرنا حرام ہے، مگر اُنہیں اس حالت میں قتل کرنا جائز ہے کہ جب وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اُٹھالیں یا ایسے کام سرانجام دیں کہ جو لڑائی کے کاموں کے معاون بنیں۔ خواہ یہ جاسوسی کرنے یا امداد دینے یا رائے دینے یا اسی طرح کے دوسرے کام ہوں۔ اس کا ثبوت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد ہے جس کو رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے:

((قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا، فَقَالَ: «انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ؟» فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ. فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ» قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا. فَقَالَ: «قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا)) (سنن أبی داود،ج۷،ص۴۷۲،رقم الحدیث:۵۹۲۲)

’’اُنہوں نے کہا کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں (شریک) تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کسی چیز پر اکٹھے ہوتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ تو وہ آدمی (واپس) آیا اور کہا، کہ ایک مقتول عورت پر، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، یہ تو لڑنے کی اہل نہ تھی۔ (راوی) کہتے ہیں کہ اس لشکر کے ہر اول دستے پر خالد بن ولید مامور تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کہ: ’’خالد سے کہو کہ کسی عورت کو قتل کرے اور نہ کسی مزدورکو‘‘۔

چنانچہ اس حدیث کی شرح میں علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ:

’’فَإِنَّ مَفْهُومَهُ أَنَّهَا لَوْ قَاتَلَتْ لَقُتِلَتْ‘‘ (فتح الباری ج۹ص۴۲۲)

’’اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ لڑائی کرے تو قتل کی جائے گی‘‘۔

امام النووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں لکھا ہے کہ:

’’أَجْمَعَ الْعُلَمَاءُ عَلَى الْعَمَلِ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَتَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ إِذَا لَمْ يُقَاتِلُوا فَإِنْ قَاتَلُوا قَالَ جَمَاهِيرُ الْعُلَمَاءِ يُقْتَلُونَ ‘‘ (شرح النووی،ج۶،ص۸۸۱ نمبر:۰۸۲۳)

’’علماء کا اس حدیث پر عمل کرنے اور عورتوں اور بچوں کے قتل کی حرمت پر اس صورت میں اجماع ہے کہ اگر وہ لڑائی نہ لڑیں۔ اگر وہ بھی لڑیں تو جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس صورت میں اُنہیں قتل کیا جائیگا‘‘۔

آپ رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

’’ وكذلك كل من لم يكن من أهل القتال لا يحل قتله إلا إذا قاتل حقيقة أو معنى بالرأي والطاعة والتحريض وأشباه ذلك. وتأمل قوله " قاتل حقيقة أو معنى بالرأي والطاعة والتحريض وأشباه ذلك "‘‘ (شرح النووی علی مسلم ۷/۴۲۳)

’’اسی طرح ہر اُس شخص کا قتل کرنا حلال نہیں جو لڑائی کے اہل لوگوں میں سے نہ ہو ماسوائے اس کے کہ وہ حقیقت میں لڑے یا رائے دے کر اور (دشمن کی) اطاعت کرکے اور لڑائی پر دشمن کو برانگیختہ کرکے اور اسی قسم کے کسی دوسرے طریقے سے معنوی طور پر لڑائی میں حصہ لے‘‘۔

ذراامام النووی رحمہ اللہ رحمہ اللہ کے اس قول پر غور کیجئے کہ وہ حقیقت میں لڑے یا رائے دیکر اور دشمن کی اطاعت کرکے اور دشمن کو لڑائی پر اُبھار کر یا اسی قسم کے دوسرے طریقے سے معنوی طور پر لڑائی میں حصہ لے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’’السیاسۃ الشرعیۃ‘‘ میں فرمایا کہ:

’’وأما من لم يكن من أهل الممانعة والمقاتلة كالنساء والصبيان والراهب والشيخ الكبير والأعمى والزمن ونحوهم فلا يقتل عند جمهور العلماء؛ إلا أن يقاتل بقوله أو فعله وإن كان بعضهم يرى إباحة قتل الجميع لمجرد الكفر؛ إلا النساء والصبيان؛ لكونهم مالا للمسلمين. والأول هو الصواب‘‘ (السیاسۃ الشرعیۃ ص:۲۳۱۔۳۳۱)

’’رہے وہ لوگ کہ جو جنگجوؤں اور لڑنے والوں میں شمار نہیں ہوتے جیسے عورتیں اور بچے اور راہب (پادری) اور بوڑھا شیخ اور دائمی نابینا اور ان جیسے دوسرے، تو جمہور علماء کے نزدیک اُنہیں قتل نہیں کیا جائے گا ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے قول یافعل کیساتھ لڑتے ہیں‘‘۔

ذرا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس فرمان پرغورکریں کہ ’’ماسوائے اس کے کہ وہ اپنے قول یا فعل سے لڑے‘‘۔ یہ بات اور امام نووی ﷫ کی سابقہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جن لوگوں کا قتل قصداً حرام ہے، اگر وہ مسلمانوں کے مخالف جنگجوؤں کی اپنے اقوال یا افعال کے ساتھ مدد کریں گے تو اُنہیں نشانہ بناکر قتل کرنا جائز ہے۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:

((انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً، وَلَا تَغُلُّوا، وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ، وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ)) (سنن ابی داود،ج۷،ص۵۹۱،رقم الحدیث۷۴۲۲)

’’اللہ کا نام لے کر نکلو، اور اس اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر ہوتے ہوئے، اور بہت زیادہ بوڑھے شیخ کو قتل کرو اور نہ بچے کو اور نہ چھوٹے کو اور نہ عورت کو، اور غنیمتوں میں خیانت نہ کرو، اور اپنی غنیمت کو اکٹھا کرو، اور اصلاح کرو۔، بلاشبہ نیکی کرنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے‘‘۔

عون المعبود کی شرح کرتے ہوئے مؤلف فرماتے ہیں کہ:

’’أَيْ إِلَّا إِذَا كَانَ مُقَاتِلًا أَوْ ذَا رَأْيٍ،وَقَدْ صَحَّ أَمْرُهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِقَتْلِ زَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ وَكَانَ عُمْرُهُ مِائَةً وَعِشْرِينَ عَامًا أَوْ أَكْثَرَ وَقَدْ جِيءَ به في جيش هوازن للرأي،الظَّاهِرُ أَنَّهُ بَدَلٌ أَوْ بَيَانٌ أَيْ صَبِيًّا دُونَ الْبُلُوغِ وَاسْتُثْنِيَ مِنْهُ مَا إِذَا كَانَ مَلِكًا أَوْ مُبَاشِرًا لِلْقِتَالِ،أَيْ إِذَا لَمْ تَكُنْ مُقَاتِلَةً أَوْ مَلِكَةً ‘‘ (عون المعبود،ج۶،ص۷۳،رقم:۷۴۲۲)

’’یعنی، مگر یہ کہ وہ لڑنے والا ہو یا دشمن کو رائے دینے والا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درید بن الصمۃ کو قتل کرنا صحیح حدیث سے ثابت ہے، حالانکہ اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی یا اس سے زیادہ تھی، اس لئے کے اُسے ہوازن قبیلے کے لشکر میں رائے دینے کے لئے لایا گیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ’’نہ بچے کو نہ چھوٹے کو‘‘ سے اُس کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو بادشاہ ہو یا لڑائی میں براہ راست حصہ لینے والا ہو اور ’’نہ کسی عورت کو‘‘ کا مطلب ہے کہ اگر وہ لڑنے والی نہ ہو یا ملکہ نہ ہو‘‘۔

امام ابن عبد البر ﷫نے میں فرمایا:

’’ لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيمَنْ قَاتَلَ مِنَ النِّسَاءِ وَالشُّيُوخِ أَنَّهُ مُبَاحٌ قَتْلُهُ وَمَنْ قَدَرَ عَلَى الْقِتَالِ مِنَ الصِّبْيَانِ وَقَاتَلَ قُتِلَ ‘‘ (الاستذکار ۴۷/۴۱)

’’علماء کا اس کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو عورتوں اور بوڑھوں میں سے لڑے تو اسکا قتل کرنا جائز ہے۔ اور بچوں میں جو لڑنے کی قدرت رکھے اور لڑے تو اُسے بھی قتل کیا جائے گا‘‘۔

امام ابن قدامہ﷫ نے بھی اسی بات پرعلماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ عورتوں، بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کا قتل ایسے وقت میں جائز ہے کہ جب وہ لڑائی میں اپنی قوم کی کسی بھی قسم کی اعانت کریں۔
امام ابن النحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ ويحرم قتل المرأة والصبي إن لم يقاتلا عند الشافعي ومالك وأحمد وأبي حنيفة فإن قاتلا قتلا. ۔‘‘ (مشارع الاشواق،ج۲،ص۳۲۰۱۔ہداۃ المجتھد،ج۱،ص۰۰۴)

’’کفار کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت ہے اگر وہ نہ لڑیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ، امام مالک رحمہ اللہ، اما م احمد رحمہ اللہ، اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی رائے کے مطابق مگر جب وہ لڑیں تب ان کو مارا جائے گا‘‘۔

امام ابن الہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور جیسے کہ کوئی بھی ان میں سے لڑے (یعنی عورتوں اور بچوں میں سے) تو ان کو قتل کرنا چاہئے تاکہ ان کے نقصان سے بچا جاسکے۔ یہ اس لئے کہ (جنگ) میں یہ جائز ہے اور اسی طرح پاگل شخص کو نہیں مارا جائیگا جب تک وہ نہ لڑے اور اگر بچہ اور پاگل لڑے تو ان کو قتل کیا جائیگا‘‘۔(شرح فتح القدیر،ج۵،ص۳۰۲)

امام ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اور اس طرح اس کی اجازت ہے کے گونگے، بہرے کو قتل کیا جائے اور جس کا ایک ہاتھ یا ٹانگ ہو۔ اس لئے کہ یہ ممکن ہے کہ وہ لڑسکتے ہوں (گھوڑے پر) اور اس طرح عورت کو قتل کیا جائیگا اگر وہ لڑے‘‘۔(حاشیہ ابن عابدین،ج۳،ص۵۲۲)

ابن قاسم نے الحاشیہ میں یہ اجماع نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ونقل عن ابن تيمية أيضا أن أعوان الطائفة الممتنعة وأنصارها منها فيما لهم وعليهم‘‘

’’ابن تیمیہ رحمہ اللہ ہی سے نقل کیا ہے کہ (اسلام کے خلاف) طاقت وشوکت (سے لڑنے) والی جماعت کے مددگار اُسی حکم کے تحت شمار کئے جائیں گے جوکہ حکم اس جماعت کے لئے ہے۔ جو کچھ اس (لڑنے والی جماعت) پر ہے وہی ان کے مددگاروں پر اور اُن پر وہی لاگو ہوگا جوکہ اس جماعت کا ہوگا‘‘۔

کچھ لوگوں کا یہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کونسی بندوق اور توپ لے کر میدان میں آئی تھی بلکہ اس نے تو صرف چند آرٹیکل لکھے تھے۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جوکہ صرف اپنی رائے اور قول سے کفار کی مدد نصرت کررہا تھا اس کے حکم میں کوئی فرق نہیں جانا بلکہ جو حکم لڑنے والے کفار کا تھا وہی حکم اس کا تھا:

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’ وَمَنْ كَانَ مِنْ هَؤُلَاءِ الرِّجَالِ الْمَذْكُورِينَ ذَا رَأْيٍ يُعِينُ بِهِ فِي الْحَرْبِ، جَازَ قَتْلُهُ ؛ لِأَنَّ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ قُتِلَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، وَهُوَ شَيْخٌ لَا قِتَالَ فِيهِ، وَكَانُوا خَرَجُوا بِهِ مَعَهُمْ، يَتَيَمَّنُونَ بِهِ، وَيَسْتَعِينُونَ بِرَأْيِهِ، فَلَمْ يُنْكِرْ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتْلَهُ. وَلِأَنَّ الرَّأْيَ مِنْ أَعْظَمِ الْمَعُونَةِ فِي الْحَرْبِ ۔‘‘ (المغنی لابن قدامۃ،کتاب الجھاد:۸/۸۷۴)

’’اسی طرح جو شخص مذکورہ افراد (معذور اور خواتین وغیرہ) میں سے ہوں مگر وہ صاحب الرائے ہو۔ یعنی ایک اچھی رائے اور کارگر مشورہ کے ساتھ وہ جنگ میں کافروں کی مدد کرتا ہوتو اس کو قتل کرنا بھی جائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوازن قبیلہ کے ایک بوڑھے سردار اور انتہائی زیرک ومعاملہ فہم شخص دُرید بن صِمّہ کو جنگ حنین میں قتل کیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ بہت بوڑھا آدمی تھا۔ اس میں لڑنے کی ذرا بھی سکت نہ تھی ۔ لیکن جب بنو ہوازن رسول اللہ ﷺ کے مدمقابل نکلے تو وہ اپنے اس بوڑھے شخص کو باعث برکت سمجھتے اور اس کی جنگی واقفیت سے اس کا تعاون حاصل کرتے تھے۔ جب اس کو قتل کیا گیا تونبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل پر کوئی تنقید اور انکار ظاہر نہیں فرمایا تھا۔ کیونکہ حالت جنگ میں رائے اور مشورہ دینا تعاون اور مدد کی سب سے بڑی صورت ہے۔‘‘

اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید تحریر فرماتے ہیں:

’’وَالْمُحَارَبَۃُ نَوْعَانِ: مُحَارَبَۃٌ بِالْیَدِ ، وَ مُحَارَبَۃٌ بِاللِّسَانِ . اِلٰی قَوْلِہٖ رَحِمَہُ اللّٰہِ : وَ ْأَدْیَانِ أَضْعَافٌ مَا تُفْسِدُہُ الْیَدُ ۔‘‘ (الصارم المسلول:۵۸۳)

’’جنگ دو طرح کی ہوتی ہے: (۱) ہاتھ سے جنگ (۲) زبان سے جنگ (امام ابن تیمیہ مزید فرماتے ہیں) کبھی کبھار تو اس میں ہاتھ کا عمل دخل ہوتا ہے۔ کبھی کبھاراس میں زبان کا دخل ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جو فساد دینوں اور مذہبوں کی طرف سے زبان کے ساتھ پھیلایا جاسکتا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے جو ہاتھ کے ساتھ پھیلا نا ممکن ہے۔‘‘

یہ ہے شرعی حکم ہے ان لوگوں کا کہ جو جنگ میں کفار کی کسی بھی طرح اعانت کرتے ہیں چاہے وہ معصوم الدم یعنی عورتیں، بچے، بوڑھے ہی کیوں نہ ہوں۔

غرضیکہ ملالہ یوسف زئی امریکہ کی برپا کردہ جنگ میں ہر اول سپاہی کا کردار ادا کررہی تھی۔ اس نے سوات آپریشن سے قبل اور اس کے دوران بی بی سی پر ’’ڈائری‘‘ کے عنوان سے مضامین لکھ کر نہ صرف نفاذِ شریعت کرنے والوں کے خلاف زہر اگلا تھا بلکہ شریعت کے واضح احکامات کے استہزاء اور تمسخر کی مرتکب ہوئی تھی اور وہ آج بھی وہ یہود ونصاریٰ کے ایجنڈے پر اسی طرح عمل پیرا تھی۔
لہذا اس پر حملہ طالبان نے کیا ہو یا پھر کوئی یہ سمجھے کہ وہ کسی سازش کا شکار ہوئی ہو، اس کے باوجود ہر وہ مسلمان جوکہ شریعت پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو اور مسلمانوں کے خلاف یہود ونصاری کی مددو نصرت کرنے والے کے حکم سے بھی واقف ہو، اس کا یہ دیرینہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ ملالہ پر حملہ ہونے پر پُرملال ہونے کے بجائے اس بات کا برملا اعلان کرے کہ:


.....ملالہ پرہمیں کوئی ملال نہیں.....