Search This Blog

Total Pageviews

Sunday, September 16, 2012

توہین آمیز فلم کی تیاری میں امریکہ کا شرمناک اور ذلت آمیز کردار واضح


انتہائی حساس موضوع پر بنائی گئی فلم کے پروڈیوسر اور منتظم کو زمین نگل
گئی یا آسمان نے اٹھالیا۔ وقت کے ساتھ واشنگٹن کی بدنیتی اور شرمناک کردار کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے لگے۔ فلم میں کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے بھی تیار کنندگان کیخلاف ہتک عزت دائر کرنے کا ارادہ ظاہر کردیا ہے۔عقل اس بات پر دنگ ہے کہ کیا امریکہ جیسے ملک میں ایسے حساس موضوع پر کوئی بھی بدکردار شخص اس طرح کی گری ہوئی حرکت کرکے ہر قسم کی قانونی پابندیوں سے آزاد رہ سکتا ہے۔

اس اسلام مخالف فلم کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں جس کے باعث مصر اور لیبیا میں امریکہ کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔یہ فلم امریکہ میں بنائی گئی تھی اور اسے جون کے آخر میں ایک چھوٹے سے سینما گھر میں دکھایا گیا تھا۔ بعد میں اس کے کچھ ٹکڑے یوٹیوب پر پوسٹ کیے گئے اور ان کا عربی میں بھی ترجمہ کیا گیا جن کی وجہ سے یہ مظاہرے پھوٹ پڑے۔
اس فلم کا نام مسلمانوں کی معصومیت ہے اور اسے سب سے پہلے یکم جولائی کو آن لائن پوسٹ کیا گیا تھا۔فلم نہایت بھونڈے طریقے سے بنائی گئی ہے، اداکاری بہت خراب ہے اور کہانی نہ ہونے کے برابر ہے۔اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے بارے میں اشتعال انگیز کلمات اداکاروں نے نہیں کہے بلکہ انہیں واضح طور پر بعد میں ڈب کر کے فلم میں شامل کیا گیا ہے۔
فلم میں کام کرنے والی ایک اداکارہ نے فلم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس فلم کو اسلام دشمن پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی اداکارہ سنڈی لی گارسیا نے ایک ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فلم میں ایک چھوٹا سا کردار تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ فلم کا نام صحرائی جنگجو ہو گا اور یہ دو ہزار سال قبل کے مصر کے بارے میں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ وہ ڈائریکٹر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گی۔

دراصل تیس جون کو ہالی وڈ کے ایک چھوٹے سے سینما میں ایک فلم دکھائی گئی تھی۔ اس وقت اس کا نام اسامہ بن لادن کی معصومیت تھا۔فلم دیکھنے والے ایک شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلم کوئی ایک گھنٹہ لمبی تھی اور بہت برے طریقے سے بنائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس شام فلم کے دو شو ہوئے اور چند ہی لوگوں نے اسے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ ایک مصری شخص نے اس فلم کی نمائش کا بندوبست کیا تھا اور اس شام اس کے ساتھ دو مصری محافظ بھی تھے۔ایک شخص نے منگل کے روز میڈیا کے کئی اداروں کو فون کر کے کہا کہ وہ فلم کے مصنف اور ہدایت کار سیم بیسائل ہیں۔
انہوں نے اپنی عمر باون یا چھپن سال بتائی اور کہا کہ وہ ایک اسرائیلی نژاد یہودی ہیں جنہوں نے فلم بنانے کے لیے یہودیوں سے کئی ملین ڈالر بطور عطیہ اکٹھے کیے ہیں۔تاہم گذشتہ ہفتے سے قبل بیسائل کا آن لائن وجود نہیں تھا اور نہ ہی اس نام کا کوئی فلمساز پایا جاتا ہے۔اس بات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کیا سیم بیسائل حقیقی نام ہے۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سٹیو کلائن نامی ایک امریکی جنہوں نے فلم کی تشہیر کی تھی، کہا کہ وہ فلم کے ہدایت کار کو نہیں جانتے۔
قرآن کو نذرِ آتش کرنے والے امریکی پادری ٹیری جونز نے بتایا کہ فلم کی تشہیر کے سلسلے میں ان کا سیم بیسائل سے رابطہ تھا لیکن وہ ان سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی انھیں شناخت کر سکتے ہیں۔فلم سے متعلق ایک اور نام بھی منظر ِ عام پر آیا ہے۔ یہ ہیں مورس صادق جو اسلام مخالف نیشنل امریکن کاپٹک اسمبلی سے تعلق رکھتے ہیں اور مصری نژاد امریکی ہیں۔ان کی طرف سے فلم کی تشہیر کی کوششوں نے قبطی عیسائی فرقے کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
قبطی مصر میں بڑی اقلیت ہیں اور ان میں سے کچھ نے اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر کی قیادت میں نئے مصر میں اپنی مذہبی آزادی کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خود کو سیم بیسائل کہنے والے ایک شخص کا فون پر انٹرویو کیا اور پھر اس کا سراغ کیلی فورنیا کے ایک پچپن سالہ مرد نیکولا بیسلی نیکولا سے جا ملایا جنھوں نے اے پی کو بتایا تھا کہ وہ قبطی عیسائی ہیں۔ انھوں نے اقرار کیا کہ وہ فلم کے لیے ساز و سامان کی فراہمی اور پروڈکشن میں شامل رہے ہیں۔البتہ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ وہ سیم بیسائل ہیں۔ لیکن اے پی نے کہا ہے کہ نامہ نگاروں نے فون کا کھوج ایک ایسے علاقے سے لگایا جہاں نیکولا پائے گئے تھے۔
فلم کا عربی میں ترجمہ اور اس کا عربی ٹی وی اسٹیشنوں پر نشر ہونا تشدد پھوٹنے کا اصل محرک بنا۔ تاہم واشنگٹن میں اس پہلو پر تفیتش کی جا رہی ہے کہ آیا بدترین تشدد بے ساختہ تھا یا نہیں۔
ایک مصری ٹی وی چینل الناس نے ویڈیو سے عربی میں ترجمہ شدہ ٹکڑے نشر کیے۔ جب کہ آن لائن فلم کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے۔

یو ٹیوب کی ہٹ دھرمی، متنازعہ فلم کے کلپس ہٹانے سے انکار


انٹرنیٹ کمپنی گوگل کی ملکیتی سماجی رابطوں کی ویڈیو ویب سائٹ "یو ٹیوب" نے پیغمبر اسلام کی اہانت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بننے والی متنازعہ فلم کے 18 منٹوں پر محیط ویڈیو کلپس کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹانے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ یہ ویڈیو ادارے کی پالیسی کے مطابق ایک وارننگ کے ساتھ یو ٹیوب پر لوڈ کی گئی ہے۔ متنازعہ ویڈیو کلپ فلم 'مسلمانوں کی بے گناہی' سے ماخوذ ہے، جو اپنا تعارف اسرائیلی یہودی کے طور پر کراتا ہے۔ادھر پاکستان نے بھی اس فلم تک رسائی روکنے کے لئے ملک میں یو ٹیوب پر پابندی لگا دی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا نے یو ٹیوب سے اس توہین آمیز فلم کے کلپس ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات و مواصلات کے ترجمان گاٹوٹ ڈیوا پروٹو نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ہم نے یو ٹیوب سے 'مسلمانوں کی بیگناہی' نامی فلم کے انتہائی نازیبا حصے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا یہ فلم نہ صرف مذہب کی توہین ہے بلکہ اس سے انڈونیشی مسلمانوں کو انتہائی صدمہ پہنچا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایسے مواد کی اشاعت پرتشدد واقعات کو ہوا دے۔ ہمارا یو ٹیوب انتظامیہ سے مسلسل رابطہ ہے، ہمیں یقین ہے کہ وہ تعاون کریں گے۔یاد رہے کہ انڈونیشیا نے سن 2008ء میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند ڈچ پارلیمنٹرین کی تیارکردہ اسلام مخالف فلم "فتنہ" کی یو ٹیوب کے ذریعے رسائی روکنے کے لئے ملک میں یو ٹیوب کی سروس بند کر دی تھی۔ رائیٹرز کے مطابق افغانستان میں اس فلم تک رسائی روکنے کے لئے کابل حکومت نے یو ٹیوب پر پابندی لگا دی ہے۔

امریکی سفارتکاروں کی لاشیں بھی کرنل قذافی کی طرح گھسیٹی گئیں

 امریکہ میں توہین رسالت پر  مبنی بنائی فلم کی ریلیز کے بعد اسلامی دنیا میں پھوٹ پڑنےوالے پر تشدد مظاہروں پراب امریکی حکام کو سخت تشویش ہونے  لگی ہے اور امریکی صدر نے بھی  اس فلم کی سخت مذمت کرتے ہوئے تشدد بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف ملنے والی اطلاعات ہولناک ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ کے حامی عناصر نے ان مظاہروں کو نا صرف مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کررکھا ہے بلکہ مقامی حکومتیں بھی ان کےخلاف کچھ کرنےسے قاصر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یمن، لیبیا، مصر، تیونس میں امریکی سفارتخانوں پر  حملے ہوئے ہین اور سفارتخانے تباہ کر کے ان پر القاعدہ کے سیاہ اور طالبان کے سفید جھنڈے لہرا دئے ہیں گئے جب کہ لیبیا میں مسلح مظاہرین نے ناصرف امریکی سفیر اور تین امریکی فوجی افسران کو قتل کیا بلکہ سفارتخانے پر بھی جلا ڈالا۔ اس حادثے کی آنے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ مظاہرین نے امریکی سفیر اور فوجی افسران کو قتل کرنے کےبعد ان کی لاشوں کو گھسیٹا اور بعض لوگ اس موقع پر قذافی کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
تصاویر میں واضح ہے کہ امریکی سفیر کی سوختہ لاش کو گھسیٹا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر کے علاوہ قونصل خانے کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہونے والا یہ حملہ ایک پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا۔واشنگٹن میں امریکی محمکہِ دفاع کے مطابق امریکی مریئنز (کمنانڈوز) کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک ٹیم کو لیبیا میں بھیجا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو بھی لیبیا کے ساحل کے قریب احتیاطی تدبیر کے طور پر بھیجا جا رہا ہے۔اس حملے میں جہادی تنظیموں سے منسلک گروہوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔" لیبیا کی سکیورٹی فورسز نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا مگر دہشت گرد مسلح اور کافی تعداد میں تھے۔"امریکی صدر باراک اوباما کے  جاری کردہ بیان کے مطابقمسلح افراد نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلم پر احتجاج کے دوران قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں لیبیا کے دس شہریوں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ملی۔لیبیا کے ایک اہلکار نے بتایا تھا کہ کرسٹوفر سٹیونز حملے کے بعد دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ تاہم اس  سے پہلے  امریکہ نے کہا تھا کہ عمارت پر جب حملہ  ہوا تو وہ خالی تھی مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر عمارت خالی تھی تو پھر ہلاکتیں کیسے ہوئیں۔بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر باراک اوباما نے لیبیا میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ امریکہ اور لیبیا کی حکومتوں کے درمیان روابط نہیں توڑے گا۔صدر اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’امریکہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ہم دوسروں کے مذاہب کی بے حرمتی کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں مگر اس طرح کے بے معنی تشدد کا کوئی جواز نہیں بنتا‘۔انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر افسوس ناک ہے کہ کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت بن غازی میں ہوئی کیونکہ یہ ان شہروں میں سے ہے جنہیں بچانے میں ان کا کردار تھا۔امریکہ نے دو بحری جنگی جہاز لیبیا کے ساحل کی طرف روانہ کر دیے ہیںلیبیا کی نگراں حکومت کے رہنماء محمد مغارف نے امریکہ سے ان ہلاکتوں پر معافی مانگی ہے اور اس حملہ کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے  ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں انصار الشریعہ نامی گروہ ملوث تھا تاہم گروہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔فلم کی مخالفت میں لیبیا کے علاوہ مصر میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت قاہرہ میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی دیوار پھلانگتے ہوئے امریکی جھنڈا اتار کر پھینک دیا تھا اور اس کی جگہ القاعدہ اور طالبان کے جھنڈے لہرا دئے تھے۔مصر میں ہزاروں مظاہرین نے آزادیِ اظہار کے بہانے پیغمبرِ اسلام کی توہین کیے جانے کی سخت مذمت کی جبکہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔امریکہ کے خلاف عرب ممالک میں پھیلنے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد امریکہ کے صدر براک اوباما نے وعدہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک میں موجود امریکیوں کے تحفظ کے لیے جو بھی ضروری ہوگا کیا جائے گا۔صدر اوباما نے غیر ملکی حکومتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہاں رہنے والے امریکیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں کیونکہ یہ ان کی ذمے داری ہے۔ مسلم دنیا میں پر تشدد ہنگاموں کے بعدامریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے اس فلم کی مذمت کرتے ہوئے اسے قابلِ نفرت اور غلط اقدام قرار دیا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس فلم کے مواد اور اس سے دیے جانے والے پیغام کو قطعی طور پر رد کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس فلم کی بنیاد پر تشدد نہیں کیا جانا چاہئیے۔امریکہ میں اسلام پر بنی ایک فلم کے کچھ اقتباسات کو انٹرنیٹ پر دیکھے جانے کے بعد مصر سے شروع ہونے والے مظاہرے پوری عرب دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ کئی ممالک میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔ فلم کے خلاف یمن، مصر، مراکش، سوڈان، تیونس میں احتجاج ہو رہا ہے۔ تیونس مظاہرین نے امریکی سفارت خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔
ایران، بنگلہ دیش میں ڈھاکہ، عراق میں بصرہ میں بھی مظاہرے کیے گئے ہیں، جن میں امریکی پرچم جلایا گیا۔امریکی حکام نے کہا کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے پیچھے کوئی شدت پسند سازش تھی یا صرف فلم کی وجہ سے لوگوں کی ناراضی کا نتیجہ تھا۔
لیبیا میں اس قتل اور حملے کے سلسلے میں کچھ گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
یمن میں مظاہرین دارالحکومت صنعا واقع امریکی سفارت خانے میں سکیورٹی اہلکاروں کا گھیرا توڑتے ہوئے داخل ہو گئے اور امریکی پرچم کو جلا دیا اور القاعدہ اور طالبان کے پرچم امریکی سفارتخانے پر لہرا دئے۔پولیس اہلکاروں نے مظاہرین پر قابو پانے کی کوشش میں فائرنگ کی ہے لیکن وہ انہیں احاطے میں داخل ہونے سے نہیں روک پائے۔ بہت سے لوگ اس واقعے میں زخمی ہوئے تاہم بعد میں سیکورٹی فورسز نے انہیں منتشر کر دیا۔صنعا میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کے اندر کئی گاڑیوں کو آگ لگی دی گئی ہے۔منگل کو لیبیا کے شہر بن غازي میں امریکی قونصل خانے پر حملے میں امریکی سفیر سمیت تین امریکی اور دس ليبيائي شہری مارے گئے تھے۔ادھر مصر میں مسلسل تیسرے روز امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین امریکی سفیر کو ملک سے باہر نکالے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔مصر کی وزارتِ صِحت کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران دو سو چوبیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔مصر کے صدر محمد مرسي نے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری عرب دنیا میں غصے کی لہر چل رہی ہے لیکن انہوں نے تمام غیر ملکیوں اور سفارت خانوں کی حفاظت کرنے کا وعدہ گيا ہے۔