Search This Blog

Total Pageviews

Thursday, May 31, 2012

القاعدہ کے اصل سربراہ۔ سعودی عرب کے سب سے امیر شخص کو گرفتار کرنے سے امریکی خوفزدہ ہیں۔


سعودی عرب کے سب سے امیر شخص اور دنیا کے بیسویں سب سے امیر شخص، نوے سالہ سعودی شیخ سلیمان بن عبدالعزیز الراجحی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ساری دولت، جو تقریبا بیس ارب ڈالر بنتی ہے، اسلامی فلاحی کاموں کے لئے اپنی قائم کردہ ایک این جی او کے نام کررہے ہیں اور اس کے لئے قانونی کارروائی مکمل کردی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکہ نے اس پر پریشانی کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ دراصل شیخ الراجحی اپنی دولت القاعدہ کے حوالے کررہے ہیں جس سے دنیا میں دہشت گردی کو مزید بڑھاوا ملے گا۔ واضح رہے کہ شیخ الراجحی کو القاعدہ کا اصل سربراہ سمجھا جاتا ہے مگر ان کا خاندان دنیا بھر اور سعودی عرب میں اس قدر بارسوخ ہے کہ امریکہ بھی شیخ الراجحی کو گرفتار کرنے یا دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ان کا نام سرعام لینے سے گریز کرتا ہے۔ شیخ الراجحی اس وقت سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ان کی عمر نوے برس ہے، ان کی کئی بھائی، بھیتیجے، بھانجے، بیٹے اور بیٹیاں ان کے کاروبار کو سنبھالتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں اگر بادشاہ کے بعد کوئی امیر شخص ہے تو وہ شیخ الراجحی ہیں۔ شیخ الراجحی کے کئی لوگ براہ راست القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو بھاری رقوم پہنچاتے پکڑے گئے ہیں اور ان کو امریکہ نے سزا بھی دی ہے، امریکہ، یورپ اور ایشیا سمیت کئی عرب ممالک میں شیخ الراجحی کے دفاتر پر بھی چھاپے مارے گئے ہیں اور القاعدہ و دیگر جہادی گروپس کی مدد کرنے والے منظم گروپوں کو گرفتار کیا گیا ہے مگر کبھی بھی شیخ الراجحی کا نام کسی کی زبان تک نہیں آیا۔ کیوں؟ اس کی وجہ بتانے سے قبل ہم آپ کو شیخ الراجحی کا تفصیلی تعارف کراتے چلیں۔
شیخ سلیمان بن عبدالعزیز الراجحی صحرائے نجدمیں پیدا ہوئے اور نسلی طور پر ایک بدو ہیں۔ ان کے والد ایک سخت گیر اسلام پسند اور جہادی تھے اور اسی ماحول میں انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش کی۔ جب بچے بڑے ہوئے توان کے والد نے کہا کہ وہ حاجیوں کی خدمت کو ہی اپنا رزق بنائیں اور اس طرح شیخ الراجحی نے اپنے بڑے بھائی صالح کے ساتھ مل کر صحرائی راستوں میں زائرین حج وعمرہ کے اونٹوں کے قافلوں کی مکہ و مدینہ تک راہنمائی کا کام شروع کردیا۔ یہ دونوں بھائی صحرا کے چپے چپے سے واقف تھے اور انہیں مکہ و مدینہ تک کے راستے ازبر تھے۔ وہ حاجیوں کے اونٹوں کے قافلوں کی رہنمائی مکہ مدینہ تک کرتے اور انہیں ڈاکوئوں سے بچانے کا ذمہ بھی لیتے۔ اس طرح انہیں معقول معاوضہ مل جاتا تھا۔
الراجحی برادارن کے کاروبار کو زیادہ ترقی ستر کی دہائی میں اس وقت ملی تھی جب تیل کی ییداوار شروع ہوتے ہی غیر ملکیوں کا سرزمین عرب کی طرف تانتا بندھ گیا تھا۔ یہ غیر ملکی یہاں کام کرنے کے بعد اپنی رقم اپنے ملک بھجوانا چاہتے تھے اور شیخ الرجحی نے غیر ملکیوں کو اپنے وطن میں پیسہ بھجوانے کے سلسلے میں مدد دیناشروع کردیا جو بعد ازاں ایک کاروباراور بینک کی صورت اختیار کرتا گیا۔اپنی محنت اور لگن کی بدولت1983 میں انہیں سعودی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ نجی بینک کھولنے کی اجازت مل گئی اور آج الراجحی بینک سعودی عرب کاسب سے بڑا نجی بینک اور پوری دنیا میں سب سے بڑا اسلامی بینک ہے۔ ابتدا ہی سے الراجحی برادان نے بینک کے سب سے زیادہ شئیر اپنے پاس رکھے ہیں۔ بینک کھولنے اور اسے کامیاب ترین ادارہ بنانے کے بعد الراجحی برادران نے دیگر کاروبار پر توجہ دینا شروع کیا اورجلد ہی سعودی عرب میں ہر شعبے پر چھا گئے۔ اس وقت سعودی عرب میں شعبہ زراعت میں سب سے بڑی کمپنی الراجحی گروپ انہیں کا ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف کیمکلز، سمینٹ اور کھاد بنانے اور تجارت کرنے پر بھی ان کا ہی زیادہ کنٹرول ہے۔ سعودی عرب میں اسٹیل کی انڈسٹری ان کی ملکیت ہے اور کئی کارخانے ہر طرح کی مصنوعات بناتے ہیں۔ ریاض کے چیمبر آف کامرس کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت سعودی عرب کی سب سے بڑی کمپنی، الراجحی گروپ ہے اور دوسری کوئی کمپنی اس کے قریب تک موجود نہیں اس لئے شیخ الراجحی کی دولت کو فی الحال کوئی چیلنج کرنے والا نہیں۔ الراجحی برادران نے اپنی فضائی کمپنی قائم کررکھی ہے اور ان کی ذاتی کنٹینر کمپنی اور بحری جہاز کمپنی ہے جس کے چالیس رجسٹرڈ جہاز دنیا بھر میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی اپنی 2008 کی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ اگر امریکی دبائو پر سعودی عرب شیخ الراجحی کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے کہ ان کا گروپ سعودی معیشت کو دنوں میں برباد کردے گا کیونکہ ان کے خفیہ کاروبار، اثاثوں اور سرمایہ کاری کا کسی کو علم نہیں۔ الراجحی خاندان نے عرب معشیت پر اس طرح کنڑول قائم کررکھا ہے کہ انہیں چھیڑنے کی صورت میں وہ پوری دنیا کو ہی معاشی جھٹکا پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں اور یہی وجہ سے ہے کہ ان کے خلاف تمام ثبوت ہونے کے باوجود کوئی ان کی طرف انگلی اٹھانے کو تیار نہیں، امریکہ بھی نہیں۔ امریکہ اور یورپ میں الراجحی بینک اور دیگر کمپنیوں کے سینکڑوں دفاتر قائم ہیں مگر انہیں کبھی بند نہیں کیا گیا نا اس کے بارے میں تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ امریکی اور یورپی معشیت کی دیوار میں اہم اینٹ کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔
شیخ الراجحی خود بھی ایک انتہائی پراسرار شخصیت ہیں۔ان کی عمر نوے سال ہوچکی ہے مگر انہیں بھی مکمل تندرست اور چاق و چوبند دیکھا گیا ہے۔ وہ کبھی بھی انگریزی لباس نہیں پہنتے اور ہمیشہ عربی جبا اور سر پر اسامہ بن لادن کی طرح عربی رومال رکھتے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اپنی داڑھی چھوٹی نہیں کرائی۔ اسامہ بن لادن کی طرح ہی انہوں نےچار شادیاں کیں اور ان کے تیس بچے ہیں۔ شیخ سلیمان بہت ہی کم لوگوں سےملتے ہیں اور ان کے ملاقاتیوں میں زیادہ تر بڑے علما اور شیوخ ہوتےہیں یا پھر ان کے کاروباری ملازمین۔ کسی کو کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔ ایک اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کوئی الیکڑانک ڈیوائس مثلا، گھڑی، موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ استعمال نہیں کرتے۔ نائن الیون واقعے کے بعد سے وہ کبھی سعودی عرب سے باہر بھی نہیں گئے۔ گو کہ امریکی حکومت کی طرف سے شیخ پر کبھی کوئی الزام نہیں لگایا گیا نا انہیں مطلوب قرار دیا گیا ہے مگر ان کے قائم کردہ اداروں، کمپنیوں اور ملازمین پر الزامات لگتے رہے،گرفتاریاں ہوئیں اور سزائیں بھی ہوئیں۔ شیخ نے خود بھی کبھی اس بارے میں آج تک ایک لفظ نہیں کہا ہے کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ البتہ بعض امریکی اخبارات نے2008 میں امریکی خفیہ اداروں کے حوالے سے دعوی کیا تھا کہ اصل میں القاعدہ کا چیف شیخ سلیمان الراجحی ہی ہیں جو سعودی عرب میں بیٹھ کر دھڑلے سے دنیا بھر میں اپنا جہادی نیٹ ورک چلا رہے ہیں مگر امریکہ سمیت کسی میں یہ ہمت نہیں کہ ان پر ہاتھ ڈال سکے یا کم از کم ان کا نام ہی لے سکے۔ حتی کہ2005 میں شیخ الراجحی کے نیویارک میں قائم مرکزی دفتر پر امریکی ایف بی آئی نے ایک چھاپہ مارا تھا اور تین افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔ یہ افراد شیخ الراجحی کے ذاتی ملازم تھے اور ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ سعودی بادشاہ کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کررہے تھے۔ بعد میں یہ معاملہ خاموشی سے ختم کردیا گیا۔
الراجحی خاندان کو سعودی عرب کے بادشاہ کے بعد سب سے زیادہ امیر ترین اور دینا بھر کے مخیر ترین افراد میں سرفہرست سمجھاجاتاہے۔ شیخ الراجحی اور ان کے بھائیوں کو دنیا کا سب سے سخی انسان بھی قرار دیا گیا ہے مگر وہ اپنی خیرات اصرف مسلمانوں پر ہی خرچ کرتے ہیں۔ا مریکی ایف بی آئی نے کئی بار یہ الزام لگایا ہے کہ الراجحی کے قائم کردہ خیراتی ادارے جہادیوں کو دنیا بھر میں سفر کرنے اور رقم فراہم کرنے کا کام کررہے ہیں۔ یہ ادارے دنیابھر میں القاعدہ کے افراد کو اپنا کارکن ظاہر کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ بحفاظت پہنچاتے ہیں اور رقوم بھی اسی طرح فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے اپنے ذاتی ہوائی جہاز اور بحری جہاز ہیں اس لئے القاعدہ کے افراد کی گرفتاری یا سراغ لگانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ شیخ الراجحی نے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ ان کی ہر کمپنی ایک این جی او بھی قائم کرے گی اور اسے چلائے گی بھی اور اس کا تمام خرچہ بھی خود اٹھائے گی، شیخ الراجحی ایسی تمام این جی اوز کی کارکردگی خود مانیٹر کرتے ہیں۔
الراجحی کی جانب سے خیراتی اداروں، این جی اورز اور دیگر فلاحی اداروں کا ایک جال چلایاجارہا ہے جس کی تعداد پچاس کے قریب ہے اور یہ خیراتی ادارے، پاکستان، افغانستان، بوسنیا، چین، امریکہ، یورپ سمیت دنیا بھر میں ہر جگہ موجود ہیں اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر بھی کام کرتے ہیں اورا سے فنڈز بھی فراہم کرتے ہیں اس لئے انہیں اقوام متحدہ کابھی تعاون حاصل ہے۔ الراجحی کے قائم کردہ خیراتی ادارے اس قدر امیر ہیںکہ ان کے اپنے ذاتی ہوائی جہاز اور بحری جہاز ہیں۔ا مریکہ کا الزام ہے کہ یہ سارا پیچیدہ ترین نیٹ ورک دراصل القاعدہ کو سپورٹ کررہا ہے اور جو لوگ اس بات پر پریشان ہیں کہ القاعدہ کس طرح افغانستان کے غاروں سے دنیا بھر فتوحات حاصل کررہی تو اسے سمجھنا چاہئے کہ افغانستان کے غار صرف آپریشنز کے القاعدہ استعمال کرتی ہیں جب کہ پلاننگ اور انتظامی امور کے لئے اس کے پاس دنیا بھر میں عالی شان دفاتر، جدید ترین مواصلاتی نظام اور قابل ترین پروفیشنل افراد میسر ہیں جو الراجحی کے خیراتی اداروں کی صورت سرگرم ہیں ۔ جب دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تھی تو بیس مارچ 2002 کو ایف بی آئی کی جانب سے کئے جانے والے آپریشن گرین میں الراجحی کے خیراتن اداروں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا تھا اور امریکہ میں اس کے ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بولا گیا تھا مگر چند گھنٹے کے اندر اندر یہ آپریشن روک دیا گیا اور ان خیراتی اداروں کو واچ لسٹ میں شامل کرلیا گیا مگر انہیں بند نہیں کیا گیا نا ہی کسی ادارے پر براہ راست کوئی الزام لگایا گیا۔کہا جاتا ہے کہ یہ پیسے کی طاقت تھی کیونکہ امریکہ کے بعض اہم ترین افراد کے مالی مفادات شیخ الراجحی کے قبضے میں ہیں۔ مثلا تیل کی تجارت اور دیگر کئی کاروباری مفادات۔
امریکی ایف بی آئی نے بعد ازاں دو افراد کو قصوروار ٹھہرایا تھا کہ اپنے طور پر القاعدہ کی مدد کررہے تھے مگر الراجحی گروپ یا اس کی خیراتی ادارے اس میں شامل نہیں۔ ان گرفتار شدگان میں ایک عبدالرحمان المودی تھے۔ عبدالرحمان المودی الراجحی خاندان کی جانب سے مذکورہ فلاحی اداروں کی چین کو چلانے میں معاون تھے اور دنیا بھر میں پھیلے الراجحی گروپ کے تمام خیراتی ادارے انہیں کی زیر نگرانی تھے۔
کہا جاتا ہے کہ القاعدہ نےا مریکہ کو شکست دینے کے لئے دو بنیادی اصولوں پر کام شروع کیا تھا، ایک میدان جنگ میں شکست دینا تھا جس کے لئے افغانستان کو مرکز اور میدان جنگ بنایا گیا اور اسامہ بن لادن یہاں قیادت کرتے رہے دوسرا اصول معشیت تھا۔ جس کی نگرانی سعودی عرب میں بیٹھ کر شیخ سلیمان الراجحی نے کی اور انتہائی کامیابی سےہدف حاصل کیا۔ انہوں نے اپنی کاروبار، اور دولت سے اس قد ر طاقت حاصل کی اور اپنے کاروباری جال میں امریکہ اور یورپ کی اہم ترین شخصیات کو اس طرح جکڑا کہ کوئی بھی ان کا نام تک لینے کو تیار نہیں۔ الراجحی آج بھی دنیا کے دولت مند ترین انسانوں میں شمارہوتے ہیں اور ان کی کمپنیاں نا کبھی خسارے میں گئیں اور نا ہی کبھی انہوں نے گذشتہ برس سے کم منافع حاصل کیا۔ جب کہ ان کے مخالفین، امریکہ اور یورپ شدید ترین معاشی بد حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔ شیخ الراجحی کی معیشت اور تجارت میں دلچسپی اس قدر زیادہ ہے کہ اس کا اندازہ کی ذاتی یونیورسٹی سے لگایا جا سکتا ہے۔
الراجحی نے اپنے گاوں میں ہی سلیمان الراجحی کے نام سے ایک عظیم الشان یونیورسٹی کررکھی ہے۔ یہ یونیورسٹی صرف دو شعبوں میں ہی ریسرچ اور تعلیم دیتی ہے ان میں سےایک اسلامی معیشت اور دوسرا شعبہ کاروباری طریقے ہیں۔ الراجحی گروپ کا ہر ملازم لازمی طور پر یہاں ایک کورس کے لئے بھیجا جاتا ہے۔
الراجحی گروپ کے خلاف سب سے بڑی امریکی کارروائی صرف 2002 ہوئی تھی جو کہ چند دن بعد ہی روک دی گئی اور پھر کچھ پتہ نہیں چلا کہ اس معاملے کا کیا ہوا۔ اسی کارروائی کے دورانمارچ 2002 میں ایف بی آئی حکام نے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیو میں قائم الراجحی کے ایک دفتر پرچھاپہ مارا۔ یہ دفتر یورپ میں سرگرم میں الراجحی کے ایک خیراتی ادارے بی آئی ایف فائونڈیشن کا مرکزی دفتر تھا اور ایف بی آئی کا الزام تھا کہ یہاں سے القاعدہ کو بڑی بڑی رقوم بھیجی گئیں اور یہ رقوم براہ راست اسامہ بن لادن کے لئے تھیں۔،
مذکورہ چھاپے میں ایف بی آئی کے ہاتھ ایک ایسا خط بھی لگا جسے ہاتھ سے تحریر کیا گیا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ اسامہ بن لادن کو دینے کے لئے کون کون سا تاجر رقم فراہم کرر ہا ہے۔ا خبارات نے اس فہرست کو گولڈن چین لسٹ قرار دیا تھا اور اس لسٹ میں لکھے گئے نام بیس بڑے سعودی تاجروں کے تھے جن کی کمپنیاں ہی سعودی اور عرب معیشت کی بنیاد ہیں۔ شاید اسی لئے ان کےخلاف کبھی کارروائی نہیں کی جا سکی اور یہ کہہ کر معاملہ ختم کردیا گیا کہ دراصل یہ رقوم اسامہ بن لادن کو نائن الیون حملے سے قبل فراہم کی گئی تھیں ۔مذکورہ فہرست میں پانچ نام ایسے تھے جن کی جانب سے فراہم کئے گئے فنڈز براہ راست اسامہ بن لادن کو بھیجے گئے تھے۔یہ واضح نہیں ہوسکا تھا کہ مذکورہ فہرست کو کب مرتبہ کیا گیا تھا۔ البتہ بعض ماہرین کا کہنا تھا کہ اسے 1988مین مربت کیا گیا تھا۔دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے ماہر رچرڈ کلارک کا ماننا تھا کہ مذکورہ فہرست کو 1989 میں مربت کیا گیا تھا کیونکہ القاعدہ کی بنیاد 1988 کے اخر میں پڑی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکومت نے ان سعودی تاجروں اور شیخ الراجحی کے خلاف کارروائی اسلئے نیہں کی کہ اس بات کا ثبوت کہیں سے نہیں ملا تھا کہ مذکورہ فہرست میں درج افراد القاعدہ کی مسلسل مدد کررہے تھے بلکہ القاعدہ کی جانب سے امریکیوں کو نشانہ بنانا شروع کرنے کے بعد ان کی جانب سے القاعدہ کی مدد نہیں کی گئی تھی کیونکہ ان نامون میں سے اکثر ایسے تھے جو امریکی سرکاری افسران کی زیرنگرانی تھے اور اگر وہ اسامہ کو رقوم دیتے تو فورا پتہ چل جاتا۔ گولڈن چین لسٹ میں درج ذیل نام شامل تھے؛

 بن لادن برادر:اس فہرست میں ان کے ناموں کے ابتدائی حصے درج نہیں تھے۔ ان کی جانب سے بن لادن کو رقم فراہم کی گئی تھی۔ بعدازاں ماہرین کا خیال تھاکہ ان کے نام ایک ایسی فہرست میں شامل ہونے سے سے جو سراجیو سے ملی تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسامہ بن لادن کو ان کے کسی ایسے بھائی کی جانب سے یہ رقم فراہم کی گئی تھی جو انہی کی کیٹیگری کے کام کررہا تھا مگر وہ کون تھا یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکا اور نا ہی معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ بن لادن گروپ سعودی عرب کا اس قدر بڑا تجارتی گروپ ہے کہ امریکہ اس کی طرف انگلی تک نہیں اٹھا سکتا۔ شاید اسی وجہ سے امریکی اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنا نہیں چاہتے تھے کہ اس کے بھائی اور خاندان والے اسے کسی بھی قیمت امریکی جیل تک نہ جانے دیتے اور سعودی عرب لے جاتے۔

 عادل بیترجی:ایک معروف سعودی بزنس مین جن کی جانب سے بی آئی ایف اور لجنۃ البر الاسلامیہ کی قائم کی گئی تھی۔مذکورہ فہرست کے مطابق انہوں نے تین مرتبہ رقوم فراہم کی تھیں ، اسی بنیاد پر ایف بی آئی کی جانب سے انہیں 2004مین دہشت گردوں کی مالی امداد کرنے والے افرادکی فہرست میں شامل کیا گیا تھامگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

 واعل حمزہ جلیدان:یہ ایک معروف سعودی ارب پتی اور القاعدہ کی بنیاد رکھنےو الے افراد میں سے ہین۔ امریکہ کی جانب سے انہیں 2002میں دہشت گردوں کی مالی مدد فرہام کرنے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا مگر ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


 صالح کمال: یہ ایک معروف سعودی تاجر اور معروف سعودی بزنس گروپ دلۃ البرکہ کے اکثر شئیر رکھنےو الے صاحب ہیں۔2003 میں فوربز کی جانب سے انہیں دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل کیا گیا تھا۔فہرست کے مطابق انہوں نے بیترجی کو رقم فراہم کی تھی جو اسامہ بن لادن تک پہنچا دی گئی۔ ان کے خلاف بھی کبھی کوئی الزام نہیں لگایا گیا نا ہی کارروائی کی گئی۔


 سلیمان عبدالعزیز الراجحی: القاعدہ کے اصل سربراہ، ایف بی آئی نے 2002میں ان کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے مگر پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر کارروائی روک دی گئی تھی۔


  خالد بن محفوظ: بن محفوظ گروپ کے ایک وکیل کی جانب سے بعد ازاں وضاحت کی گئی تھی کہ ان کی جانب سے اگرچہ1980کے آخر میں ایک محدود رقم مجاہدین کو فراہم کی گئی تھی لیکن یہ امریکی اور سعودی حکومت کی اجازت سے تھی

غدار ڈاکٹر شکیل آفریدی عورتوں کے چکر میں سی آئی اے کے ہتھے چڑھا۔ اہم انکشافات


امریکی خبر ايجنسي نے دعوي کيا ہے کہ اسامہ کی مخبری کرنے والا غدار پاکستانی ڈاکٹر شکيل آفريدي ايک بدعنوان اوررنگين مزاج شخص ہے جو خوبصورت عورتوں کے عوض کچھ بھی کرسکتا ہے اور اسی کمزوری کے باعث سی آئی اے نے اسے پھانس لیا تھا.خبر ايجنسي نے پاکستان کے متعدد حاضر اور سابق اہلکاروں سے انٹرويوز کئے ،جنہوں نے اسامہ بن لادن کي تلاش ميں امريکا کي مدد کرنيوالے ڈاکٹر شکيل آفريدي کو شراب پينے والااور خواتين کا رسيا قرارديا،جس پر خواتين سے زيادتي،انہيں ہراساں کرنے اور چوري جيسے الزامات لگ چکے ہيں. ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شکيل آفريدي کا اصل جنون دولت کا حصول تھا.2002 کي محکمہ صحت کي دستاويزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر شکيل افريدي کوبد عنوان اور سرکاري نوکري کے لئے ناقابل اعتبار اور ناموزوں سمجھا جاتا تھا اور اس کے ساتھ کام کرنے والی کسی بھی عورت کی عزت محفوظ نہیں رہتی تھی۔ امریکیوںنے بھی اسے کچھ رقم اور کچھ عورتوں کے عوض استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب اسے گرفتار کرنے کےبعد پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں نے اس کے گھر کی تلاشی لی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ برہنہ فلموں کا ایک ذخیرہ اس کے ذاتی کمرے میں موجود تھا جب کہ کئی فلمیں خود اس کی اپنی تھیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک جنسی جنونی شخص ہے۔ پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی اسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے سی آئ اے نے پاکستان میں اس کی ہینڈلر بھی ایک امریکی خوبرو خاتون کو مقرر کر رکھا تھا جو اکثر اس سے ملنے پشاور جایا کرتی تھی۔ اسامہ آپریشن کے کچھ قبل وہ امریکی خاتون فوری طور پر ملک چھوڑ گئی تھی۔.
امریکہ کے لئے جاسوسی پر 33 سال قید کی سزاء پانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے 1991ء میں ایم بی بی ایس کیا، 2010ء میں ہیلتھ آفیسر تعینات ہونے کے بعد کئی بار بدعنوانی کے الزام میں معطل اور پھر اثر و رسوخ پر بحال ہوتا رہا اسے خیبر پختون میں بر سر اقتدار اے این پی میں خاصا رسوخ حاصل تھااور اسی باعث اب اے این پی کے رہنما اسے ہیرو قرار دینے اور رہا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ امریکہ نے بھی اسے قومی اعزاز کے لئے بھی نامزد کیا، خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والا ڈاکٹر شکیل آفریدی ملک دین خیل میں 1962ء میں پیدا ہوا اور 1991ء میں خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، شکیل آفریدی کی اہلیہ امریکی شہری ہے جو درہ آدم خیل میں کالج کی پرنسپل رہی۔ ڈاکٹر شکیل کو ملازمت کے دوران کئی دفعہ بدعنوانیوں کے الزام پر معطل کیا گیا، تاہم اثر و رسوخ ہونے کے باعث وہ بحال ہوتا رہا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ڈرون حملوں کے لئے زمینی نیٹ ورک قائم کرنے میں سی آئی اے کی مدد کی تھی اور اس کا تیار کردہ نیٹ ورک مسلسل قبائلی علاقوں میں سی آئی اے کے لئے جاسوسی کررہا تھا۔ اس نیٹ ورک کا خاص ٹاسک یہ ہوتا تھا کہ وہ ٹارگٹ کی نشاندہی کرئے اور اس کے قریب ایک مخصوص چپ پھینک دے جو سگنل دے کر ڈرون طیارے کو ہدف کی نشاندہی کرتی تھی اور پھر اس ہدف پر میزائل برسائے جاتے تھے۔ ڈاکٹر شکیل نے اپنی دشمنی اور اس کے نیٹ ورک میں شامل افراد نے بھی اپنی د شمنی میں کئی خاندانوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنوایا جن کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہ تھا۔
ڈاکٹر شکیل فروری 2010ء میں خیبر ایجنسی کا ہیلتھ آفیسر تعینات ہوا، جس کے بعد اس نے پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ایک قیمتی بنگلے میں رہائش اختیار کرلی، سی آئی اے کا رابطہ اسامہ کے کورئیر سے ہونے کے بعد ڈاکٹر شکیل نے سی آئی اے کی ایماء پر اسامہ بن لادن کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کیلئے ایک لیڈی ہیلتھ ورکر نیٹ ورک کی معاونت سے ایبٹ آباد میں 17 مارچ اور 20 اپریل 2011ء کو انسداد پولیو اور ہیپاٹائٹس بی کی جعلی مہم چلائی۔ 2 مئی کو امریکہ نے اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا تو 22 مئی 2011ء کو ڈاکٹر شکیل کو پشاور سے گرفتار کیا گیا۔جعلی پولیو مہم اور ہیپاٹائٹس مہم کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جمرود ہسپتال سے پولیو کی 6 کٹس چوری کیں، ایبٹ آباد میں حفاظتی ٹیکوں کی جعلی مہم کے دوران ڈاکٹر شکیل خیبر ایجنسی کے محکمہ صحت میں او ایس ڈی کے طور پر کام کررہا تھا ۔
اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی سی آئی اے کے لیے پولیواور ہیپاٹائٹسٹیکوں کی جعلی مہم چلانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو خیبر ایجنسی کی پولیٹکل انتظامیہ نے غداری کا الزام ثابت ہونے پر 30 برس قید اور جرمانے کی سزا سنادی ہے۔پاکستان کے خفیہ اداروں نے 22 مئی 2011ء کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے حیات آباد کے قریب کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔خیبر ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک افسر صدیق خان نے میڈیا کو بتایا کہ تحصیل باڑہ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ناصر خان کی عدالت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں30 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ڈاکٹر شکیل کے خلاف ایف سی آر کی شق نمبر 121 اے کے تحت خیبر ایجنسی میںمقدمہ چلایا گیا کیونکہ وہ وہیں کا رہائشی ہے۔ پولیٹیکل انتظامیہ نے شکیل آفریدی پرغداری اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں کا الزام ثابت ہونے کے بعد سزا دی ہے اور ایف سی آر کے تحت اس پر ساڑھے3 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ مزید3 سال جیل میں گزارے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سینٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی سزا پوری کرے گااور شاید ہی اپنی زندگی میں جیل سے باہر نکل پائے۔ اہلکار کے مطابق ڈاکٹر شکیل پر یہ الزام ثابت ہوگیا ہے کہ اس نے اسامہ بن لادن کا پتا چلانے میں امریکا کی مدد کی تھی۔خیال رہے کہ صوبائی محکمہ صحت نے القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے بارے میں امریکیوں کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پہلے ہی نوکری سے برطرف کر دیا تھا اس واقعے کے بعد سے اس کے امریکی بیوی بچے بھی روپوش ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شکیل کی امریکی بیوی کا بھائی پاکستان میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے اور اس کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔ وہ اس کی رہائی کے لئے خاموش مہم چلا رہا ہے۔یاد رہے کہ القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کی گرفتاری کیلیے امریکہ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی خدمات حاصل کی تھیں۔ سی آئی کے اہلکار سیٹلائٹ اور دیگر ذرائع سے اس عمارت کی نگرانی کر رہے تھے لیکن وہ ایک دوسرے ملک میں پرخطر حتمی کارروائی سے پہلے اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ اسامہ بن لادن واقعی وہاں موجود ہیں۔اس مہم کو چلانے کے لیے مبینہ طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں نے اپنے ایک مقامی ایجنٹ ڈاکٹر شکیل آفریدی ف کو ٹاسک دیا جو خیبر ایجنسی میں صحت کے شعبے کا انچارج تھا۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی مارچ میں یہ کہتے ہوئے ایبٹ آباد گیا تھا کہ انہوں نے ہیپاٹائٹس بی کے حفاظتی ٹیکے مفت لگانے کے لیے فنڈ حاصل کیے ہیں۔ سب سے پہلے برطانوی اخبار گارڈین نے یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکا نے اسامہ بن لادن کا سراغ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے لگایا ۔امریکا کی طرف سے پاکستان پر شکیل آفریدی کی رہائی کا شدید دبائو رہا ہے ۔ سزا کے حوالے سے جب امریکی سفارتخانے کا مؤقف جاننے کیلئے مارک اسٹرا سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔واضح رہے کہ جنوری میں امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے تصدیق کی تھی کہ شکیل آفریدی امریکی انٹیلی جنس کیلئے کام کرچکاہے اور اس نے اسامہ بن لادن کے ڈی این اے کی تصدیق میں مدد دی تھی ، انہوں نے پاکستانی حکام کے شکیل آفریدی سے سلوک پر تشویش ظاہر کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ شکیل آفریدی نے پاکستان کے ساتھ کوئی غداری نہیں کی بلکہ اس نے دہشت گردی کیخلاف مدد فراہم کی ہے، میرے نزدیک اس کیخلاف کسی قسم کی کارروائی بڑی غلطی ہوگی ۔

رقم نہیں ہے.....................۔ سود خوروں کی دنیا کے ہولناک انکشافات



لاہور کے نواحی دیہات میں کبیرخان نامی ایک پٹھان کپڑے کا کاروبار کرتا ہے جس کا اپنا ایک طریقہ کار ہے ۔ وہ کپڑا نقد قیمت پر فروخت نہیں کرتا بلکہ3 سے 6 ماہ کے ادھار پر بیچتا ہے۔ اس نے اپنے اس کاروبار میں دیگر ملازم بھی رکھے ہوئے ہیں۔کبیر خان کے کپڑے کے نرخ لاہور کی لوکل مارکیٹ سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن ادھار کی وجہ سے اس کا کپڑا لوگ ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے ہیں۔ کبیر خان اپنے گاہکوں سے کہتاہے کہ آپ کپڑا خرید لو اور پیسوں کی فکر نہ کرو۔ وہ ہم بعد میں لے لیں گے۔ اس کے گاہکوں میں زیادہ تر گاﺅں کے متوسط اور غریب طبقے کے افراد ہوتے ہیں جو 3سے 6 ماہ کے وعدے پر کپڑا توخرید لیتے ہیں مگر غربت کے باعث مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی اکثر لوگ پیسوں کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ کبیر خان پہلے تو سائیکل پر یہ کاروبار کرتا تھا مگر اب اس نے ایک پک اپ رکھی ہوئی ہے جس پر یہ کاروبار کرتا ہے۔ کبیر خان جب کپڑا فروخت کرنے کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کپڑا ماپنےکے لیے گز ہوتا ہے مگر جب وہ پیسوں کی وصولی کے لیے دیہات میں جاتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کلہاڑی ہوتی ہے۔ جب دیہات کے لوگوں کو پتا چلتا کہ کبیر خان پیسوں کی وصولی کے لیے آ رہا ہے تو دیہات کے مقروض اس سے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کچھ مقروض اس کے قابو آ جاتے ہیں۔ پیسے وصول کرنے کے لیے کبیر خان کچھ ایسا انداز اختیار کرتا ہے کہ مقروض کو اپنی عزت بچانے کے لیے اسے کچھ نہ کچھ دینا ہی پڑتا ہے۔ اگر پیسوں کا انتظام نہ ہو سکے تو وہ گھر میں جو چیز موجود ہوتی مثلاً بکری، بھینس کا بچہ، اجناس وغیرہ اٹھا کر لے جاتا ہے۔
ایسے کبیر خان نہ صرف لاہور میں بلکہ ملک بھرکے تمام شہروں اور دیہات میں موجود ہیں جو صرف نقدی کی صورت میں قرض دینے اورکپڑے کا کاروبار ہی نہیں کرتے بلکہ اب یہ گھر کی ضرورت کی ہر چیز بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں۔ اب ایسے افراد کے کاروبار میں وسعت آگئی ہے اور ان کے کاروبار کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ جنہیں نہ تو کوئی بینک قرضہ دیتا ہے اور نہ ہی اہل ثروت، وہ اپنے بچوں کی شادیوں، ان کی تعلیم یا بیماری پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرنے کیلئے مجبوراً ایسے افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ ان کی شرح سود 35 سے 50 فیصد ہوتی ہے۔ زیادہ شرح سود کی وجہ سے معمولی رقم بھی تھوڑے عرصے بعد ہی کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور مقروض وہ رقم ادا نہیں کر سکتے۔ چنانچہ کچھ قرض خواہ اپنی رقم کی واپسی کیلئے ان کے بچے اغوا کر لیتے ہیں حتیٰ کہ انہیں قتل کرنے سے بھی نہیں چونکتے۔ کچھ لوگ بے عزتی کے ڈر سے خودکشیاں بھی کر لیتے ہیں۔
اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے ایسے سودخوروںنے نت نئے طریقے بھی دریافت کر لیے ہیں بلکہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے اب اخبارات میں بھی اشتہار شائع کرواتے ہیں۔ پیپلز لائرز فورم کے صدر شاہد حسن ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ سودی کاروبار کی پاکستان میں اجازت بھی ہے اور پابندی بھی ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ سٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کی منظوری سے مالیاتی ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے جیسے بینک وغیرہ لیکن پرائیویٹ طور پر اور انفرادی طور پر ایسا کاروبار کرنے پر پابندی ہے لیکن اب اس کا حل بھی سود خوروں نے نکال لیا ہے ۔ یہ لوگ انفرادی طور پر یا دو یا دو سے زائد افراد مل کر ”فرم رجسٹریشن آفس “سے کسی نام پر ایک فرم رجسٹرڈ کروا لیتے ہیں اور دکان ، دفتر کھول کر قرضہ دینے، قسطوں پر دیگر اشیا دینے، سونے کے عوض قرضہ دینے اور بینک کے چیک کے عوض قرضہ دینے کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان افراد نے اپنے دفاتر پر ”رجسٹرڈ، حکومت سے منظور شدہ“ایسے الفاظ بھی لکھے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان پر یقین بھی کرتے ہیں۔ یہ لوگ اخبارات میں بھی قرضہ دینے کے اشتہارات شائع کراتے ہیں اور ایسے اشتہارات روزانہ خصوصاً اتوار کے اخبارات میں کثرت سے آتے ہیں۔
لاہور میں نقد رقم بطور قرض دینے میں اب بعض سونے کا کاروبار کرنے والے زرگر بھی شامل ہیںجو جب قرضہ دیتے ہیں تو قرض دار کو سونے کا بھاو بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت وہ اس کو جتنا قرض دے رہے ہیں اس کا اتنا سونا خریدا جاسکتا ہے اور قرض دار کو اس شرط پر قرض دیتے ہیں کہ وہ قرض کی واپسی پر اتنی ہی رقم دے گا جس کا اتنا ہی سونا ملے گا جتنا قرض دیتے وقت مل سکتا تھا جبکہ سونے کا بھاﺅ مسلسل بڑھ رہا ہے لہٰذا قرض کی رقم بھی مسلسل بڑھتی جاتی ہے۔
ایسے سودخوروں کا شکار صرف عام شہری ہی نہیں بنتا بلکہ کاروبار کرنے والے بیشتر افراد بھی ان کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ کاروبار میں اونچ نیچ آنے کی وجہ سے شہر کی مارکیٹوں میں ایسے افراد کی بہتات ہے جو آپ کو کاروبار کی اونچ نیچ سے نکالنے کیلئے نہ صرف نقدقرضہ دیتے ہیں بلکہ مال بھی خرید کر دینے کو تیار ہوتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مقروض ان قرض خواہوں کے پاس پھنس جاتے ہیں اور گھر بار تک فروخت کر دیتے ہیں مگر قرضہ نہیں اتر پاتا جبکہ بیشتر افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
پچھلے دنوں لاہور میں ملتان روڈ کے رہائشی ایک رکشہ ڈرائیور نے قرض ادا نہ کر سکنے پر اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ زہر کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ باغبانپورہ لاہور میں دو بچیوں کے باپ نے بھی سود خوروں سے تنگ آ کر گلے میں پھندہ لے کر خودکشی کر لی تھی۔ سود خوروں نے رقم نہ ملنے پر کھاریاں کے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا۔ راولپنڈی میں ویسٹرج کے علاقے میں ایک شخص کو سود خور نے چ#±ھریاں مار کر شدید زخمی کر دیا تھا۔ یہ لوگ قرض دینے سے پہلے چیک لیتے ہیں یا دکانوں اور گھروں کے کاغذات لیتے ہیں یا پھر اقرار نامہ کی صورت میں کوئی تحریر لکھوا لیتے ہیں اور پھر رقم واپس نہ کرنے کی صورت میں ان کاغذات کی بنیاد پر یہ جائیدادوں پر قبضہ کر لیتے ہیں جبکہ اس تحریر کی بنیاد پر پولیس بھی ان کا ساتھ دیتی ہے۔
قیام پاکستان سے قبل جب بینکنگ کا نظام اتنا موثر نہیں تھا تو ایسے قرض دینے والوں کو بنیا کہا جاتا تھا جن سے نہ صرف کاروباری لوگ بلکہ زراعت پیشہ افراد اور کاشتکار قرضہ لیتے تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ کاروبار جاری رہا۔1972ءتک اس کاروبار پر کوئی قانونی قدغن نہیں تھی لیکن جب اس کے نتیجے میں استحصالی طبقے کی تعداد بڑھنے لگی اور لوگوں کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑھنے لگا تو1973ءکے شروع میںذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے زرعی قرضے حاصل کرنے کیلئے ایک ریلیف متعارف کروایا ۔اس ایکٹ کے تحت سود خوروں سے لیے گئے قرضے معاف کر دیے گئے اور سود خوروں کی طرف سے دیے جانے والے قرضوں پر سود کی رقم کی حد بندی کر دی گئی۔ مزید براں یکم نومبر 1973ءکو قرضوں پر واجب الادا سود کی رقم ختم کر دی گئی اور صرف اصل رقم باقی رکھی گئی۔ اسی تاریخ کو اس ایکٹ کے تحت اراضی کیلئے واجب الادا رقوم بھی ختم کر دی گئیں۔
لاہور پولیس کے ایک افسر سے جب اس حوالے سے بات کی تو انھوں نے الٹا ایک سوال کر دیا اور پوچھا کہ بتاﺅ’پولیس کس بنیاد پر سودخور کےخلاف کارروائی کرے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں رقم یا کسی بھی چیز کے لین دین پر کوئی قانونی قدغن نہیں ہے ماسوائے غیر قانونی اشیا کے ۔ جب کوئی ایک شخص رقم یا کوئی چیز کسی دوسرے شخص سے ادھار، قرضے کی صورت میں لیتا ہے یا خرید کرتا ہے تو وہ اس کے عوض اسے تحریر ی اقرار نامہ لکھ کر دیتا ہے اور ساتھ ہی جائیداد کے کاغذ دے دیتا ہے تو ایسے میں پولیس کیا کرے۔ انھوں نے کہا اگرچہ لوگوں کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے لیکن اس صورت میں جب اس کا ثبوت موجود ہو۔ انھوں نے کہا اصل میں سودخوری اب نوسر بازی اور دھوکہ دہی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ لوگ مختلف حیلے بہانوں سے لوگوں کو پھانس لیتے ہیں لیکن ساتھ ہی تحریر دیکر اپنے ہاتھ کٹوا بیٹھتے ہیں جبکہ کوئی شخص ان کے خلاف گواہی دینے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔