Search This Blog

Total Pageviews

Tuesday, September 24, 2013

اسلامی جمہوریت

 

اسلامی جمہوریت 

ہمارے ایک دوست تھے ،ذھن اسلامی ، چہرہ مہرہ غیراسلامی ، ہم ذھن پر ہی شکر ادا کرتے ،موصوف کچھ عرصہ کے لیے ولایت تشریف لے گئے جب واپسی ہوئی تو بغل میں ایک میم تھیں! موصوف کا تعلق روایتی گھرانے سے تھا ،اس لیے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ جناب میم لے کر آئے ہیں ،رشتے داروں نے گوری کے دیدار کے لیے دوردراز سے ان کے گھر تک کا سفر کیا ، عورتیں سروں پر ڈوپٹہ لیتی ہوئی چوری چوری میم صاحبہ کو دیکھتی اور ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتیں کہ کہیں گوری میلی نہ ہوجائے ، دولہا کی بہنیں فخریہ لہجے میں سہلیوں کو بتاتی پھرتیں کہ بھیا انگلینڈ سے میم لائے ہیں، بچے تو اس کمرے سے نکلتے ہی نہ تھے جہاں پر میم تھی اماں کو انگلش وغیرہ تو نہ آتی تھی لیکن پھر بھی روایتا چادر اور سوٹ گوری کو دیا ، بلائیں لیتی لیتی رہ گئیں کہ پتہ نہیں میم کو کیسا لگے ۔ ہاں بیٹے کو جی بھر کر دعائیں دیتی رہیں ، صرف ابا جی تھے جنہوں نے بیٹا جی سے دریافت کیا ،مسلمان کیا ہے ؟ بیٹا جی نے جواب دیا جی اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے ، اور اباجی مطمئن ہوگئے

!
مشترکہ خاندانی نظام تھا ، کچھ عرصہ گزرا کہ ایک نیا کام شروع ہوا ، میاں کے آفس جانے سے پہلے میم دروازے کے اوپر خاوند کی باہوں میں جھول جاتی اور چہرے پر ایک پیار کی لمبی مہر ثبت کرتیں! گھر میں کچھ چہ مہ گویئاں ہوئیں ، بیٹا جی نے استفسار پر بتایا کہ سمجھ جائے گی "کلمہ پڑھا ہوا ہے" گرمیاں شروع ہوئیں گوری نے پینٹ اتار کر نیکر پہننی شروع کردی ، ابا جی تو کمرے سے باہر نکلنا چھوڑ دیا اور بھائی رات کو دیر سے گھر آنے لگے ، اماں ہر وقت گھر کی دیواروں کو تکتی رہتیں کہ کہیں سے چھوٹی تو نہیں رہ گئیں ! بیٹے سے شکوہ ہوا اس نے پھر بتایا "کلمہ پڑھا ہوا ہے"۔ ایک شادی پر گوری نے بریک و کینبرے ڈانس کا ایسا شاندار نمونہ پیش کیا کہ بڑے بڑے دل تھام کر رہ گئے ،دریافت کرنے پر پھر بتایا گیا کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے"۔ گوری عید وغیرہ تو کرتی لیکن ہر سال کرسمس بھی بڑے تزک و احتشام سے مناتی بیٹا جی ہر دفعہ پوچھنے پر جواب دیتے "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ وقت گزرتا چلا گیا ،برداشت پیدا ہوتی چلی گئی، بچہ ہوا تو گوری نے ختنے کروانے سے انکار کردیا کہنے لگی کہ یہ ظلم ہے ، بیٹا جی کھسیانی سی ھنسی کے ساتھ بولے سمجھ جائے گی "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ڈانس ، میوزک ، فلمیں ، کاک ٹیل پارٹیز ، کرسمس ، سرعام بوس و کنار گھر کے کلچر کا حصہ بنے ، بھائی آہستہ آہستہ بھابی سے فری ہوتے چلے گئے ، ہاتھوں پر ہاتھ مار کر باتیں کرتے اور وہ ان کی گوری سہیلیاں ڈھونڈنے کی کوشش۔ بہنیں بھابی کے کمرے میں جاتیں اور جینز کی پینٹیں پہن پہن کا شیشے کے آگے چیک کرتیں کلمہ تو انہوں نے بھی پڑھا ہوا تھا ،بھابی سے دل کی ہر بات کھول کر بیان کرتیں ، گوری کبھی کبھار نماز جمعہ پڑھ لیتی تھی اس لیے ابا جی بھی کہنے لگے "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ ایک صرف اماں تھیں جو کہ گھر کے دروبام کو اب خوفزدہ سی نظروں سے دیکھتیں اور پوچھنے پر سر جھکا کر جواب دیتی کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ۔ دوست احباب جب بھی ملنے جاتے تو گوری خاوند کے پہلو سے چپک بیٹھتی ، ایک دو بار تو جگہ تنگ ہونے کی صورت میں گود میں بھی بیٹھنے سے گریز نہ کیا پوچھنے پر صرف اتنا جواب ملتا "کلمہ پڑھا ہوا ہے" ایک کام گوری کا اچھا تھا جب بھی کہیں باہر بازار وغیرہ نکلتی تو جینز شرٹ میں ملبوس ہونے کے باوجود سر پر ایک ڈوپٹۃ سا ڈال لیتی ۔ دیکھنے والے دیکھ کر ہی اندازہ کرلیتے کہ "کلمہ پڑھا ہوا ہے


اسلامی جمہوریت بھی مغرب کی ایک ایسی ہی گوری ہے جس کو ہمارے کچھ دینی مزاج والے بھائی بیاہ لائے۔ انہوں نے اس کو ادھر کے معاشروں کے قابل قبول ہونے کے لیے اسے کلمہ پڑھایا، قوم کے لیے اس کے رعب میں آنے کے لیے اس کا بدیسی ہونا ہی کافی تھا ،اتنی گوری اتنی چٹی "کلمہ پڑھی ہوئی جمہوریت"!! انہوں نے ہاتھ لگانے کی بھی جرآت نہ کی دور دور سے ہی دیکھ کر خوش ہوگئے کہ لو ایک کلمہ پڑھی گوری اپنے ہاں بھی آئی ہے ۔ اس نے رواج توڑے ، دستور توڑے ، آزادی کے نام پر ہر ایک چیز کو اندر لے آئی ، لیکن قوم خوش ہی رہی کہ کلمہ پڑھا ہوا ہے !! معاشرت کے نام پر یہ ہر اس میدان میں اسی طرح ناچنے لگی جو کہ غیر قوموں کا دستور تھا لوگ پھر بھی مطمئن رہے کہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے ، اس نے ہر شرک و کفر کو ایک جواز دیا ، ہر ظالم کو اقتدار تک پہنچنے کا راستہ دیا ، دین کے ہر ابا جی کو سمجھوتہ کرنا سکھایا ، کلمے کا سہارا لے کر ہر چیز کو عام کیا ، اور ہم محلے داروں کی طرح اسی بات پر خوش رہے کہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے !! اگر کسی نے بہت زیادہ شرمندگی محسوس کی بھی تو اماں جی کی طرح سر جھکا کر یہی کہا کہ کلمہ پڑھا ہوا ہے ۔
آج بھی وقت ہے کچھ یہ برباد کرچکی کلمے کے بھیس میں کچھ برباد کردے گی ۔ بچ جائیں اور اس اسلامی جمہوریت کو تین طلاقیں دے دیں ۔ طلاق اس کا حق ہے کیونکہ اس نے کلمہ پڑھا ہوا ہے

کیاالقاعدہ فتح یاب ہورہی ہے؟

کیاالقاعدہ فتح یاب ہورہی ہے؟
مروان بشار سینئر سیاسی تجزیہ نگار ،الجزیرہ ٹی وی

واشنگٹن کی جانب سے شروع کردہ ”وار آن ٹیرر “کے بارے میں کیا کہا جائے کہ پیپر کٹر تھامے ڈیڑھ درجن نوجوانوں نے لاکھ ہا مغربی دستوں کو عظیم مشرق وسطیٰ کے جنگی میدانوں میں گھسیٹ لیا ہے ۔لاکھ سے زائد بیرونی افواج افغانستان کی دلدل میں پھنسی حیرت میں مبتلا ہیں کہ القاعدہ کے کتنے درجن اراکین باقی بچ گئے ۔دنیا کی سب سے لبرل جمہوریت نے اپنے ”پیٹریاٹ ایکٹ“کے تحت متنازع غیر انسانی قوانین اور جذبہ حب الوطنی سے عاری افعال کا ڈھیر لگا دیا۔جوتے میں بم رکھے ایک شخص نے لاکھوں لوگوں کو ہر دفعہ جہاز میں سوار ہونے سے پہلے جوتے اتارنے پر مجبور کردیا اور زیر جامہ دھماکہ خیز مواد چھپائے ایک شخص کی وجہ سے ہر مسافر انتہائی ذلت آمیز طریقہ پر اپنی تلاشی دے رہا ہے ۔
امریکہ اپنا احساس تحفظ اور وقار ‘بمع اربوں ڈالر کے فوجی اور دیگر اخراجات کے ‘کھوچکاہے ۔جبکہ القاعدہ کی قیادت متحرک اور فعال ہے ۔پوری دنیا میں اس کے سیل (cell)تیزی سے بڑ رہے ہیں ،رضاکار جوق درجوق اس کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں اور نوجوان ویب سائٹوں پر اس کے نظریے کا پرچار کررہے ہیں ۔اور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اب بھی امریکہ اور امریکیوں کو دہشت زدہ کررہے ہیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کا حریف تعداد اور صلاحیت میں کمی کے باوجود کوئی سُپر پاور ہے ۔کیا القاعدہ فتح یاب ہورہی ہے ؟کیا امریکہ جنگ ہارچکا ہے؟
تقریباً بارہ سال قبل ایک غیر منظم گروہ القاعدہ نے ،جس کے لیے جائے پناہ افغانستان کی پہاڑیاں تھیں،امریکہ کو ہدف بنانا شروع کیا ،اس کی ناک کو خاک آلود کیا ۔القاعدہ خوش قسمت تھی کہ اُس نے ان جنگجوؤں کے ذریعے جنہوں نے کبھی باقاعدہ فوج میں ملازمت بھی نہ کی تھی ،وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو مغلوب کردیا ۔بش انتظامیہ نے جنگ کو دشمن کے علاقے میں لڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنا گھر محفوظ رہے یہی تو وہ ردعمل ہے جس کی خواہش القاعدہ کررہی تھی ۔یہ سب کچھ ایسے آرام سے ہوتا چلاگیا جیسا کہ کوئی فلم ہو ۔امریکی عظمت کے میناروں ،پینٹاگون اور وال اسٹریٹ کے زمین بوس ہوتے ہی زخم خوردہ ”سُپر پاور“نے اشتعال انگیز لہجے میں میدان کا رخ کیا ،یہ سوچے بغیر کہ اس جنگی کاروائی کے اثرات کیاہونگے۔
امریکی انتہاپسندوں نے امریکہ کے قومی سلامتی کے خطرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے فوجی ایجنڈے کو امریکی خارجہ پالیسی کا حصہ بنادیا اور اس بدلتی صورتحال کو ”اپنے طرز زندگی “کے لیے خطرہ قرار دیا ۔تاکہ وہ امریکی معاشرے کو بھی انتہاپسندی کی طرف موڑ دیں۔واشنگٹن نے صلیبی جنگ کانقارہ بجاڈالابعدازاں اسے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “قرار دیاگیا اور اس بھیس میں وہ افغانستان وعراق پر قبضہ کرنے اور لبنان اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کو سہارا دینے کے لئے چل پڑا،اس نے صومالیہ ،یمن اور پاکستان میں بھی مداخلت کی اور اپنے اتحادیوں پر زور ڈالا کہ وہ اپنے یہاں موجودہ اسلامی تحریکوں کے خلاف صف آراءہوں ۔پلک جھپکتے میں امریکہ اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں اور بھاری بھرکم فوجی آپریشنوں کے بوجھ تلے دب گیا اور جیسا کہ اُمید کی جارہی تھی ،انسانی جانوں کے بے پایاں ضیاع نے امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکادیا۔
خلاف توقع ”دوست ممالک“جیسا کہ اردن ،سعودی عرب ،ترکی وغیرہ کے عوام میں امریکہ سے نفرت میں اضافہ باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہوا۔امریکہ کی بدقسمتی اور ایک منتشر ،متحرک اور کثیر مرکزی قوت جو کہ سینکڑوں مجموعوں پر مشتمل ہے ‘کے خلاف فوجی قوت کے غیر متناسب استعمال نے امریکہ کو مزید غیر محفوظ اور شکست خوردہ کردیا ۔اس وقت جبکہ اوبامہ انتظامیہ 660ملین ڈالر کے منظور شدہ دفاعی بجٹ میں 2010ءکے لیے مزید 33بلین ڈالر کے اضافے کا مطالبہ کررہی ہے سابق امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف رچرڈمائیر نے چند ہفتے قبل مجھے بتایا کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود بھی امریکہ سے نبردآزما اس عالمی یلغار سے مقابلے کے لیے امریکہ کے پاس کوئی حکمت عملی موجود نہیں ۔
امریکی فوج گردی کے خلاف اُٹھنے والی عوامی عالمی مذمت کے سامنے واشنگٹن نے اپنے کان بند رکھے ۔فوجوں میں توسیع سے ہاتھ کھینچنے کی بجائے اوبامہ انتظامیہ نے افغان پاکستان علاقوں میں اسے مزید تیز کردیا اور ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ یمن میں بھی یہی کرنے جارہاہے ۔امریکی صدراوبامہ کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات ،عرب اور مسلمان دنیاکے ساتھ باہمی احترام اور باہمی مفاد کی بنیاد پر روابط کے قیام کے نعرے ڈرون حملوں،تیز رفتار F-15جیٹ طیاروں اور دندناتے ٹینکوں کی گرج کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں۔
اسی طرح امریکہ کی فوجی کاروائیاں اس کے جاسوسی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو نقصان پہنچارہی ہیں۔فوجی مہمات جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں جس کی وجہ سے غیر متوقع طور پر اتحاد قائم ہوتے ہیں جیسا کہ امیرطبقے سے تعلق رکھنے والا نائیجریا کا نوجوان جس کی تعلیم لندن سے ہے ،ترکی کا تعلیم یافتہ اردنی ڈاکٹر اور عربی نژاد ہمام البلاوی ‘یہ تمام کے تمام امریکہ کو زخم خوردہ کرنے کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار تھے ۔
اسی دہشت گردی ،مخالف حربوں اور جاسوسی نظام نے عوامی سفارت کاری کے لئے بھی دلوں اور ذہنوں کو جیتنا مشکل بنادیا ہے ۔خطہ کے لوگوں کی مشکلات کو سُننے کی بجائے ‘ان کی جاسوسی کی جاتی ہے اور ان کے حقوق کی آواز کو دُور دراز کے قیدخانوں میں بندکردیاجاتا ہے ۔ان کے تحفظات اور خدشات کی شنوائی کرنے کی بجائے واشنگٹن نے اپنی اغراض کو سب سے زیادہ بلند کررکھا ہے ۔غربت کے مارے ،شمالی اور جنوبی علاقوں میں جنگ کی تکلیفیں سہتے اور تین دہائیوں سے آمرانہ اقتدار کے شکنجے میں کسے یمنیوں سے یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اپنی تکلیفوں کو بُھلاکر امریکی خدشات کو دور کرنے کا سامان کرو اور امریکی مفاد کو اپنے مفاد پر ترجیح دو ۔یہ سب کچھ ہمیں ہمارے ابتدائی سوال کی طرف لے جاتا ہے کہ جتنا امریکہ اس خود شکستہ جنگ میں آگے بڑھتا جارہا ہے اُتنا ہی القاعدہ کامیابی سے قریب ہوتی جارہی ہے۔

القاعدہ کا فتح کابیس سالہ منصوبہ!

القاعدہ کا فتح کابیس سالہ منصوبہ! ۔







سن 2005 کے اختتام پر ایک اردنی صحافی فواد حسین کی ایک عربی کتاب منظر عام پر آئی جس کو عربی روزنامہ القدس عربی نے چھاپا - کتاب کا نام تھا
الزرقاوی ۔ القاعدہ کی دوسری نسل
Al-Zarqawi . Al-Qaeda Second Generation
اپنی طباعت کے موقع پر یہ کتاب کوئی خاص اہمیت حاصل نہ کرسکی گوکہ فواد حسین معصب الزرقاوی کے ساتھ اردنی جیل میں کچھ وقت گزار چکے تھے ۔ اور اپنے دعوی کے مطابق القاعدہ کی لیڈر شپ سے رابطہ رکھتے تھے ۔ لیکن عرب بہاریہ کے بعد ایک دم یہ کتاب مغربی تجزیہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئی ۔ خاص طور پر جس بات نے ان کی توجہ مرکوز کی وہ "القاعدہ کا فتح کا بیس سالہ منصوبہ" تھا جس کا دعوی جہادی ذرائع سے اس کتاب میں کیا گیا ۔ اس کتاب کے یہ مندرجات حیران کن طور پر کچھ ہی سالوں میں سچے ثابت ہوئے ۔ جو کہ پڑھنے سے تعلق رکھتے
ہیں ۔ مصنف نے القاعدہ کے منصوبے کو سات حصوں یا مراحل میں تقسیم کیا ہے
2003پہلا مرحلہ ۔ بیداری ،مدت 2000 تا

اس عرصہ کے دوران امریکہ کو اس بات پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ اسلامی دنیا پر جنگ کا اعلان کردے ،9/11 اس سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ جس کا مقصد امریکہ کو مسلم دنیا کے ساتھ جنگ میں گھسیٹنا اور مسلم عوام کو بیدار کرنا تھا ۔ یہ مرحلہ انتہائی کامیابی سے حاصل کرلیا گیا اور امریکہ اور اس کے اتحادی مسلم دنیا کے ساتھ ایک جنگ میں ملوث ہوگئے اور آسان شکار ثابت ہوئے ۔ سن 2003 میں بغداد پر حملے نے مسلم دنیا میں اور اضطراب پیدا کردیا اور مسلم دنیا مغربی سازش کے خلاف بیدار ہونا شروع ہوئی ۔
دوسرا مرحلہ- فریب توڑنا ،مدت 2003 تا 2006
فاضل مصنف نے جس وقت یہ کتاب لکھی اس وقت یہ مرحلہ چل رہا تھا ، مصنف کے مطابق اس
مرحلے کے دوران اسلامی دنیا کو مغربی سازشوں سے خبردار کرنا تھا ۔ اور القاعدہ کو ایک جماعت سے ایک فکر کا روپ دینا تھا ۔ مصنف کے مطابق اس عرصہ کے دوران عراق اس جنگ کا محور بننا تھا ، جہاں پر ایک ایسی فوج کی تشکیل کا کام سرانجام دینا تھا جو کہ دوسرے عرب ممالک تک اثر رسوخ رکھتی ہو
القاعدہ نے یہ مرحلہ بھی بڑی کامیابی سے حاصل کرلیا ،عراق میں القاعدہ کی نئی شاخ وجود میں آئی اور 2006 کے اختتام تک یمن میں بھی القاعدہ وجود میں آچکی تھی ، اسی اثنا میں کئی اور گروپس نے القاعدہ کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا اور یہ تنظیم پورے عرب میں پھیل گئی ۔اس کو عربی جزیرہ نما میں القاعدہ کا خطاب اس وقت ملا جب یمنی برانچ نے سعودی برانچ کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا ۔ سن 2007 ہی کی شروعات میں الجیریا کی تنظیم کی شمولیت کے ساتھ ہی اس کو القاعدہ ان اسلامک مغرب کا نام دے دیا گیا
تیسرا مرحلہ - بغاوت،مدت 2007تا 2010
یہ مرحلہ بہت اہم ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ اس کی ٹائمنگ کتاب کے منظر عام پر آنے سے بعد کی ہے ۔ یہ کتاب سن 2005 میں لکھی گئی ۔اس کے مطابق اس مرحلے میں
شام رسول اللہ کی پیشین گویئوں کی روشنی میں مرکزی مقام تھا جہاں پر ایک جہادی تحریک کو کھڑا کرنا تھا، اس کے علاوہ اسرائیل ، ترکی و اردن پر حملے بھی منصوبے میں شامل تھے ۔ ان حملوں کا مقصد مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا درجہ حاصل کرنا تھا ۔
لیکن یہ مقاصد اس دور میں حاصل نہ کیے جاسکے ، عراق جنگ کے دوران شام میں القاعدہ کو اڈے بنانے کی اجازت تھی ۔ لیکن عراق رافضیوں کے ہاتھوں لگتا دیکھ کر شامی حکومت نے وہ اڈے فورا ہی بند کروا دیئے اور جہادی عناصر کو مجبورا عراق میں ہجرت کرنا پڑی ۔ اسرائیل پر کچھ راکٹ تو فائر کیے گئے لیکن وہ کوئی قابل زکر نقصان نہ پہنچا سکے ۔ بلکہ حماس کو القاعدہ کے خلاف صف آرا ہونے پر مجبور کردیا ، یہی حال اردن میں ہوا جہاں کی انٹلیجنس کی کاروائی سے القاعدہ کا سیل گرفتار ہوا اور عقوبت خانوں میں پہنچا دیا گیا
لیکن یہ مرحلہ مکمل ناکامی کا مرحلہ نہیں تھا ۔انہی خطوں میں القاعدہ اپنی خاموش موجودگی قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی اور ان حکومتوں کا بغص بھی کھل کر سامنے آگیا
چوتھا مرحلہ ۔عرب بہاریہ ،مدت -2010 تا 2013
القاعدہ کے اندازے کے مطابق اس عرصے کے دوران عرب کے غدار حکمرانوں کے خلاف بغاوتیں ہوجائیں گئیں اور ان کے اقتدار چھین لیے جائیں گئیں ۔ اسی دوران امریکہ پر سائبر حملے بھی کیے جائیں گئیں
جہاں تک اندازے کی بات ہے تو القاعدہ کا یہ اندازہ حیرت انگیز حد تک درست نکلا اور اسی دوران ،تیونس ، مصر ،لیبیا و شام کی بغاوتیں رونما ہوئیں ۔ گوکہ ان بغاوتوں میں القاعدہ کی فکر کا کردار اتنا زیادہ نہ تھا لیکن یہ اس کی مقصد کی برآواری کے لیے بہت مفید ثابت ہوئیں ، ان عرب بغاوتوں کا سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ ہی نے اٹھایا شمالی افریقہ میں اس کی اتحادی جماعت انصار الشریعہ دعوت و تبلیغ کے زریعے اپنا پیغام پھیلانے میں کامیاب رہی اور ایک معاشرتی تنظیم کا روپ دھارنے میں کامیاب بھی ۔
عراق سے حاصل کیے گئے تجربے کو اس نے شام میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا اور طاقت کے اندھا دھند استعمال کی بجائے حکمت و تدبر اختیار کرکے مسلم معاشرے میں اپنی جگہ بنائی ۔ شامی بغاوت سے اس کو کافی عرصہ بعد ایک نئے ملک میں اپنے اڈے بنانے کا موقع ملا جو کہ اسرائیل و ترکی کی عین سرحد کے اوپر ہیں ۔ مجموعی طور پر اس مدت کے ہدف باآسانی حاصل کرلیے گئے ۔
پانچواں مرحلہ ۔ خلافت ،مدت 2013 تا 2016
القاعدہ کے مطابق یہ عرصہ اسلامی خلافت کے قیام کا عرصہ ہوگا ۔ جس میں دشمن قوتوں کو اس حد تک شکست دی جاچکی ہوگی کہ وہ اسلامی خلافت کے قیام کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال سکیں گئیں ۔ مغربی اثر و رسوخ مسلم خطوں پر سے کم ہوچکا ہوگا اور اسرائیل کمزور ہوچکا ہوگا یا صرف اپنے آپ کو بچانے کی تیاریوں میں !
یہ مرحلہ مستقبل سے متعلقہ ہے ۔ لیکن ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ اسلامی خلافت کے قیام کی آواز جتنی اب زور دار ہے پچھلی صد سالہ تاریخ میں کبھی بھی اتنی زور دار نہیں رہی ۔ شام ،افغانستان ، یمن ، عراق میں جاری جہاد نے اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دی ہے اور بذات خود امت کی مختلف جماعتوں کے اندر ایک جھنڈے و لیڈر کے تلے کھڑے ہونے کی خواہش کو بڑھاوا دے دیا ہے ۔ امریکی اثر و رسوخ کی گرفت عرب خطوں پر ویسی نہیں رہی جیسی کے چند سال پہلے تک تھی ۔ وہ اس محاذ پر پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے ۔ اسرائیل کمزور ہوا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ایک دفاعی پوزیشن اختیار کرتا جارہا ہے
چھٹا مرحلہ ۔ کھلا مقابلہ ۔مدت - 2016 تا 2020
کتاب کے مصنف کے مطابق القاعدہ اس عرصے کو لادینوں و کفریہ طاقتوں کے ساتھ کھلے مقابلے کا دور کہتی ہے ۔ جس میں یہ سب مل کر اسلامی خلافت کے مقابلے میں صف آرا ہوجائیں گئیں ،اور ایک ہولناک جنگ کا آغاز ہوجائے گا جو کہ مسلمانوں کی فتح پر منتج ہوگی
اگر القاعدہ کا خلافت قائم کرنے کا منصوبہ پورا ہوجاتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ یہ مرحلہ آکر رہے گا ۔ اور پورا عالم کفر بمعہ رافضی اس خلافت کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ دیں گئیں ۔ یہ کب ہوگا اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایسا ہونا یقینی ہے
ساتواں مرحلہ ۔ مکمل فتح ،مدت 2018 تا 2020
مصنف کے دعوی کے مطابق القاعدہ کو یقین ہے کہ 2020 تک کفریہ طاقتوں کو مکمل شکست دی جاچکی ہوگی اور اسلامی خلافت اپنی شان و شوکت سے قائم ہوگی
اللہ کرے کہ یہ مرحلہ ہماری زندگیوں میں ہی آجائے اور ایک بار پھر ہم اسلام کے نظام کو پوری شان و شوکت سے حکمرانی کرتا دیکھ سکیں ۔ اور مستقبل کا درست حال تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے
ہم حتمی طور پر یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ واقعی ہی القاعدہ کا منصوبہ ہے کہ نہیں لیکن اس کتاب کے مندرجات ناقابل یقین حد تک ان مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا تذکرہ کیا گیا ہے

Sunday, May 12, 2013

Nawaz Sharif’s Dirty Shameful Scandal with Kim Barker


Monday, April 15, 2013

جمہوریت اسلام کے مخالف ایک دین ہے

جمہوریت اسلام کے مخالف ایک دین ہے


Friday, March 15, 2013

جماعت قاعدۃ الجہاد کے میگزین ’’انسپائر‘‘ کے نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ‘‘ مطلوب گستاخ دہشت گردوں کی لسٹ جاری

جماعت قاعدۃ الجہاد کے میگزین ’’انسپائر‘‘ کے نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ‘‘ مطلوب گستاخ دہشت گردوں کی 
لسٹ جاری
نیوز رپورٹ

انسپائر میگزین کے اس نئے شمارے میں ’’زندہ یا مردہ حالت میں مطلوب دشمنان اسلام‘‘ کی ایک لسٹ جاری کی گئی ہے، جن کو ہلاک یا قید کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس لسٹ کے ساتھ عنوان کے طور پر یہ لکھا ہوا ہے ’’ہاں! ہم یہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں‘‘۔ جبکہ اس کے نیچے ذیل کی سرخی میں یہ لکھا ہوا ہے: ’’روزانہ ایک گولی ایک کافر کو تم سے دور کرسکتی ہے‘‘۔

اس لسٹ میں ان عالمی مجرم دہشت گردوں کے نام دیئے گئے ہیں، جنہوں نے دنیا کی سب سے برگزیدہ ہستی اور تمام انسانوں کے سردار جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کارٹون، خاکے، ویڈیوز، کتابیں اوردیگر توہین آمیز مواد مرتب اور نشر کیا تھا۔

ان مجرم دہشت گردوں میں:

گزشتہ سال رسول اللہ ﷺ کے گستاخانہ خاکے بنانے والی امریکی کارٹونسٹ فنکار ’’کارموللی نوریس‘‘

اسلام میں عورت پر ظلم کے حوالے سے 2004ء میں توہین رسالت پر مبنی سلسلہ وار فلموں کا اسکرپٹ لکھنے والی ہالینڈ پارلیمنٹ کی سابق رکن ’’ایان حرسی علی‘‘

توہین آمیز کتاب لکھنے والا برطانوی رائٹر جوکہ اصل میں بھارتی ہے، ’’سلمان رشدی‘‘

قرآن کے متعدد نسخوں کو نذرآتش کرنے والا مشہور امریکی پادری ’’ٹیری جونز‘‘

ڈنمارک کی اخبار ’’ییلاند پوسٹن‘‘ کے ثقافتی ایڈیٹر اور 2005ء میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف ہونے والے احتجاج کی مذمت پر مبنی کتاب نشر کرنے والا ڈنمارک کا صحافی ’’فلمینگ روز‘‘

کھلے عام اسلام اور رسول دو جہاںﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمات کہنے والا، مسلمانوں کی توہین آمیز کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا اور امریکی گستاخانہ فیلم کو وسیع پیمانے پر پھیلانے والا امریکہ میں مقیم قبطی عیسائی ’’مورس صادق‘‘

اسلام کو دہشت گردی کا دین قرار دینے اور 2008ء میں بننے والی گستاخانہ فلم ’’فتنہ‘‘ کا پروڈیوسر ہالینڈ کے انتہاپسند دائیں بازو جماعت کا ممبر پارلیمنٹ ’’خیرت فیلڈرز‘‘

2007ء میں رسول اللہ ﷺ کے انتہائی توہین آمیز خاکوں کو بنانے والا سویڈن کارٹونسٹ ’’لارس فیلکس‘‘

گزشتہ سال رسول اللہ کے خاکوں اور توہین آمیز عبارتوں کو نشر کرنے والے میگزین ’’چارلی ایبدو‘‘ کا ایڈیٹر فرانسیسی صحافی ’’اسٹیفن شاربونییہ‘‘

2006ء میں گستاخانہ کارٹوں بنانے والا ڈنمارک کا کارٹونسٹ ’’کورٹ فسٹرگارڈ‘‘، جسے ایک صومالی مہاجر مسلمان نے تین سال پہلے اس کے گھر میں گھس کر اسے قتل کرنے کی کوشش کی مگر وہ گرفتار ہونے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا اور اس مسلمان کو 10سال قید کی سزا سنائی گئی۔

اس میگزین میں گستاخی کی مرتکب مجرم عورتوں کے صرف نام لکھے گئے ہیں اور ان کی تصاویر کو نشر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے کہ عورتوں کی تصاویر کو نشر کرنا اسلامی اخلاق کے منافی ہے۔ باقی تمام گستاخوں کے نام اور ان کی تصاویر کو نشر کیا گیا ہے تاکہ مسلمان ان گستاخوں تک پہنچ کر ان کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور توہین رسالت کا انتقام اور بدلہ لے سکیں۔

رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرم دہشت گردوں کی فہرست کو یہاں سے دیکھیں، جو جماعت القاعدۃ کو زندہ یا مردہ حالت میں مطلوب ہیں:


القاعدہ کے ہیکرز نے اسرائیل میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سے زائد سرور اور متعدد یہودی ویب سائٹیں ہیک کرلی

القاعدہ کے ہیکرز نے اسرائیل میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سے زائد سرور اور متعدد یہودی ویب سائٹیں ہیک کرلی

نیوز رپورٹ

القاعدہ کے غزہ ہیکرز نے مسجد اقصی میں قرآن کی توہین اور اپنے بہادر شہداء کا انتقام لینے کے لیے گزشتہ روز اسرائیل میں نیٹ فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کی سروس ہیک کرتے ہوئے ہزاروں گیگا بائٹ ڈیٹا حاصل کرلیا۔ نیز اسرائیل میں ہزاروں صارفین کو نیٹ سے محروم اور کمیونیکیشن کی بیسیوں کمپنیوں کی سروسز کو معطل کردیا ہے۔

اس کے علاوہ القاعدہ کی غزہ ہیکرذ ٹیم نے الحمدللہ اسرائیل میں نیٹ فراہم کرنے والی مرکزی کمپنی کے 250 سرورز کو ناکارہ بناتے ہوئے انہیں خراب کردیا ہے، جس کی وجہ سے اگلے کئی دنوں تک یہ سرورز نیٹ کی خدمات فراہم کرنے سے قاصر رہیں گے۔ ان شاء اللہ

اسرائیل میں نیٹ اور ہوسٹنگ فراہم کرنے والی کمپنی کی مرکزی ویب سائٹیں، جنہیں ہیک کیا گیا۔

http://www.dns.net.il

http://www.isp.net.il

netguard.net.il

yars.net

اسرائیل میں نیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنی کے 250 سرور جن کی خدمات کو معطل کردیا گیا ہے:

isp Israel Servers :
195.60.232.0 R.L. Ltd.
195.60.232.1 R.L. Ltd.
195.60.232.2 R.L. Ltd.
195.60.232.3 R.L. Ltd.
195.60.232.4 R.L. Ltd.
195.60.232.5 R.L. Ltd.
195.60.232.6 R.L. Ltd.
195.60.232.7 R.L. Ltd.
195.60.232.8 R.L. Ltd.
195.60.232.9 R.L. Ltd.
195.60.232.10 R.L. Ltd.
195.60.232.11 R.L. Ltd.
195.60.232.12 R.L. Ltd.
195.60.232.13 R.L. Ltd.
195.60.232.14 R.L. Ltd.
195.60.232.15 R.L. Ltd.
195.60.232.16 R.L. Ltd.
195.60.232.17 R.L. Ltd.
195.60.232.18 R.L. Ltd.
195.60.232.19 R.L. Ltd.
195.60.232.20 R.L. Ltd.
195.60.232.21 R.L. Ltd.
195.60.232.22 R.L. Ltd.
195.60.232.23 R.L. Ltd.
195.60.232.24 R.L. Ltd.
195.60.232.25 R.L. Ltd.
195.60.232.26 R.L. Ltd.
195.60.232.27 R.L. Ltd.
195.60.232.28 R.L. Ltd.
195.60.232.29 R.L. Ltd.
195.60.232.30 R.L. Ltd.
195.60.232.31 R.L. Ltd.
195.60.232.32 R.L. Ltd.
195.60.232.33 R.L. Ltd.
195.60.232.34 R.L. Ltd.
195.60.232.35 R.L. Ltd.
195.60.232.36 R.L. Ltd.
195.60.232.37 R.L. Ltd.
195.60.232.38 R.L. Ltd.
195.60.232.39 R.L. Ltd.
195.60.232.40 R.L. Ltd.
195.60.232.41 R.L. Ltd.
195.60.232.42 R.L. Ltd.
195.60.232.43 R.L. Ltd.
195.60.232.44 R.L. Ltd.
195.60.232.45 R.L. Ltd.
195.60.232.46 R.L. Ltd.
195.60.232.47 R.L. Ltd.
195.60.232.48 R.L. Ltd.
195.60.232.49 R.L. Ltd.
195.60.232.50 R.L. Ltd.
195.60.232.51 R.L. Ltd.
195.60.232.52 R.L. Ltd.
195.60.232.53 R.L. Ltd.
195.60.232.54 R.L. Ltd.
195.60.232.55 R.L. Ltd.
195.60.232.56 R.L. Ltd.
195.60.232.57 R.L. Ltd.
195.60.232.58 R.L. Ltd.
195.60.232.59 R.L. Ltd.
195.60.232.60 R.L. Ltd.
195.60.232.61 R.L. Ltd.
195.60.232.62 R.L. Ltd.
195.60.232.63 R.L. Ltd.
195.60.232.64 R.L. Ltd.
195.60.232.65 R.L. Ltd.
195.60.232.66 R.L. Ltd.
195.60.232.67 R.L. Ltd.
195.60.232.68 R.L. Ltd.
195.60.232.69 R.L. Ltd.
195.60.232.70 R.L. Ltd.
195.60.232.71 R.L. Ltd.
195.60.232.72 R.L. Ltd.
195.60.232.73 R.L. Ltd.
195.60.232.74 R.L. Ltd.
195.60.232.75 R.L. Ltd.
195.60.232.76 R.L. Ltd.
195.60.232.77 R.L. Ltd.
195.60.232.78 R.L. Ltd.
195.60.232.79 R.L. Ltd.
195.60.232.80 R.L. Ltd.
195.60.232.81 R.L. Ltd.
195.60.232.82 R.L. Ltd.
195.60.232.83 R.L. Ltd.
195.60.232.84 R.L. Ltd.
195.60.232.85 R.L. Ltd.
195.60.232.86 R.L. Ltd.
195.60.232.87 R.L. Ltd.
195.60.232.88 R.L. Ltd.
195.60.232.89 R.L. Ltd.
195.60.232.90 R.L. Ltd.
195.60.232.91 R.L. Ltd.
195.60.232.92 R.L. Ltd.
195.60.232.93 R.L. Ltd.
195.60.232.94 R.L. Ltd.
195.60.232.95 R.L. Ltd.
195.60.232.96 R.L. Ltd.
195.60.232.97 R.L. Ltd.
195.60.232.98 R.L. Ltd.
195.60.232.99 R.L. Ltd.
195.60.232.100 R.L. Ltd.
195.60.232.101 R.L. Ltd.
195.60.232.102 R.L. Ltd.
195.60.232.103 R.L. Ltd.
195.60.232.104 R.L. Ltd.
195.60.232.105 R.L. Ltd.
195.60.232.106 R.L. Ltd.
195.60.232.107 R.L. Ltd.
195.60.232.108 R.L. Ltd.
195.60.232.109 R.L. Ltd.
195.60.232.110 R.L. Ltd.
195.60.232.111 R.L. Ltd.
195.60.232.112 R.L. Ltd.
195.60.232.113 R.L. Ltd.
195.60.232.114 R.L. Ltd.
195.60.232.115 R.L. Ltd.
195.60.232.116 R.L. Ltd.
195.60.232.117 R.L. Ltd.
195.60.232.118 R.L. Ltd.
195.60.232.119 R.L. Ltd.
195.60.232.120 R.L. Ltd.
195.60.232.121 R.L. Ltd.
195.60.232.122 R.L. Ltd.
195.60.232.123 R.L. Ltd.
195.60.232.124 R.L. Ltd.
195.60.232.125 R.L. Ltd.
195.60.232.126 R.L. Ltd.
195.60.232.127 R.L. Ltd.
195.60.232.128 R.L. Ltd.
195.60.232.129 R.L. Ltd.
195.60.232.130 R.L. Ltd.
195.60.232.131 R.L. Ltd.
195.60.232.132 R.L. Ltd.
195.60.232.133 R.L. Ltd.
195.60.232.134 R.L. Ltd.
195.60.232.135 R.L. Ltd.
195.60.232.136 R.L. Ltd.
195.60.232.137 R.L. Ltd.
195.60.232.138 R.L. Ltd.
195.60.232.139 R.L. Ltd.
195.60.232.140 R.L. Ltd.
195.60.232.141 R.L. Ltd.
195.60.232.142 R.L. Ltd.
195.60.232.143 R.L. Ltd.
195.60.232.144 R.L. Ltd.
195.60.232.145 R.L. Ltd.
195.60.232.146 R.L. Ltd.
195.60.232.147 R.L. Ltd.
195.60.232.148 R.L. Ltd.
195.60.232.149 R.L. Ltd.
195.60.232.150 R.L. Ltd.
195.60.232.151 R.L. Ltd.
195.60.232.152 R.L. Ltd.
195.60.232.153 R.L. Ltd.
195.60.232.154 R.L. Ltd.
195.60.232.155 R.L. Ltd.
195.60.232.156 R.L. Ltd.
195.60.232.157 R.L. Ltd.
195.60.232.158 R.L. Ltd.
195.60.232.159 R.L. Ltd.
195.60.232.160 R.L. Ltd.
195.60.232.161 R.L. Ltd.
195.60.232.162 R.L. Ltd.
195.60.232.163 R.L. Ltd.
195.60.232.164 R.L. Ltd.
195.60.232.165 R.L. Ltd.
195.60.232.166 R.L. Ltd.
195.60.232.167 R.L. Ltd.
195.60.232.168 R.L. Ltd.
195.60.232.169 R.L. Ltd.
195.60.232.170 R.L. Ltd.
195.60.232.171 R.L. Ltd.
195.60.232.172 R.L. Ltd.
195.60.232.173 R.L. Ltd.
195.60.232.174 R.L. Ltd.
195.60.232.175 R.L. Ltd.
195.60.232.176 R.L. Ltd.
195.60.232.177 R.L. Ltd.
195.60.232.178 R.L. Ltd.
195.60.232.179 R.L. Ltd.
195.60.232.180 R.L. Ltd.
195.60.232.181 R.L. Ltd.
195.60.232.182 R.L. Ltd.
195.60.232.183 R.L. Ltd.
195.60.232.184 R.L. Ltd.
195.60.232.185 R.L. Ltd.
195.60.232.186 R.L. Ltd.
195.60.232.187 R.L. Ltd.
195.60.232.188 R.L. Ltd.
195.60.232.189 R.L. Ltd.
195.60.232.190 R.L. Ltd.
195.60.232.191 R.L. Ltd.
195.60.232.192 R.L. Ltd.
195.60.232.193 R.L. Ltd.
195.60.232.194 R.L. Ltd.
195.60.232.195 R.L. Ltd.
195.60.232.196 R.L. Ltd.
195.60.232.197 R.L. Ltd.
195.60.232.198 R.L. Ltd.
195.60.232.199 R.L. Ltd.
195.60.232.200 R.L. Ltd.
195.60.232.201 R.L. Ltd.
195.60.232.202 R.L. Ltd.
195.60.232.203 R.L. Ltd.
195.60.232.204 R.L. Ltd.
195.60.232.205 R.L. Ltd.
195.60.232.206 R.L. Ltd.
195.60.232.207 R.L. Ltd.
195.60.232.208 R.L. Ltd.
195.60.232.209 R.L. Ltd.
195.60.232.210 R.L. Ltd.
195.60.232.211 R.L. Ltd.
195.60.232.212 R.L. Ltd.
195.60.232.213 R.L. Ltd.
195.60.232.214 R.L. Ltd.
195.60.232.215 R.L. Ltd.
195.60.232.216 R.L. Ltd.
195.60.232.217 R.L. Ltd.
195.60.232.218 R.L. Ltd.
195.60.232.219 R.L. Ltd.
195.60.232.220 R.L. Ltd.
195.60.232.221 R.L. Ltd.
195.60.232.222 R.L. Ltd.
195.60.232.223 R.L. Ltd.
195.60.232.224 R.L. Ltd.
195.60.232.225 R.L. Ltd.
195.60.232.226 R.L. Ltd.
195.60.232.227 R.L. Ltd.
195.60.232.228 R.L. Ltd.
195.60.232.229 R.L. Ltd.
195.60.232.230 R.L. Ltd.
195.60.232.231 R.L. Ltd.
195.60.232.232 R.L. Ltd.
195.60.232.233 R.L. Ltd.
195.60.232.234 R.L. Ltd.
195.60.232.235 R.L. Ltd.
195.60.232.236 R.L. Ltd.
195.60.232.237 R.L. Ltd.
195.60.232.238 R.L. Ltd.
195.60.232.239 R.L. Ltd.
195.60.232.240 R.L. Ltd.
195.60.232.241 R.L. Ltd.
195.60.232.242 R.L. Ltd.
195.60.232.243 R.L. Ltd.
195.60.232.244 R.L. Ltd.
195.60.232.245 R.L. Ltd.
195.60.232.246 R.L. Ltd.
195.60.232.247 R.L. Ltd.
195.60.232.248 R.L. Ltd.
195.60.232.249 R.L. Ltd.
195.60.232.250 R.L. Ltd.
195.60.232.251 R.L. Ltd.
195.60.232.252 R.L. Ltd.
195.60.232.253 R.L. Ltd.
195.60.232.254 R.L. Ltd.
195.60.232.255 R.L. Ltd.

ویب سائٹ کے مرکزی پیچ پر اسرائیل کی جیل میں شہید ہونے والی فلسطینی کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ’’ہم کبھی جھکیں گے نہیں، خواہ ہمارے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کردو‘‘ والی نظم لکھ ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ یہ اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک ایک صہیونی فوجی بھی فلسطین میں ہے اس وقت تک جنگ جاری رہے گی۔ صفحے کے آخر میں القاعدہ کی غزہ ہیکرز ٹیم کے دستخط ہے، جو یہ ہے

 :




Friday, March 1, 2013

قوم ثمود کی عذاب گاہ سے سعودی حکومت نے رقم کمانے کا منصوبہ بنا لیا

قوم ثمود کی عذاب گاہ سے سعودی حکومت نے رقم کمانے کا منصوبہ بنا لیا

 

الحجر(اے ایف پی)سیاہ حجاب میں مکمل طورپر ملبوس آئرلینڈکی گوری انجیلا مس کیلی نے سعودی عرب کے قدیم شہر الحجر (مدائن صالح)کا دورہ کرتے ہوئے پتھریلے پہاڑوں میں بنی قدیم مقبروں والے اس شہرکی تاریخی اہمیت کو نمایاں طورپر اجاگرکردیا یہ وہ جگہ ہے جسے عذاب کی جگہ قرار دیا جاتا ہے اور یہاں کی قوم پر اللہ نے عذاب نازل کر کے اسے تباہ کردیا تھا۔ اس جگہ سے پیغمبر اسلام نے جلد گزرنے اور قیام نہ کرنے کا حکم دیا تھا مگر سعودی  حکومت اب اسے رقم کمانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔علاوہ ازیں سعودی عرب نے طویل عرصے تک چھپے رکھے گئے آثارقدیمہ کے کھنڈرات تک جانے کی اجازت دے دی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق مس کیلی نے الحجر کے قدیم تاریخی مقبروں کا دورہ کرتے ہوئے بے ساختہ کہا کہ یہ علاقہ” قابل دید…حیرت انگیز…اوردلکش ہے لیکن سیاح کہاں ہیں؟ اگرہمارے ملک میں ایساتاریخی مقام ہوتا توہمارے ہاں لاکھوں سیاح ہوتے!رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی مقام،جہاں قوم ثمودکی قبریں،دنیا کی عظیم قوموں کے قصہ پارینہ بن جانے کی یاددلاتی ہے،مغربی شہرمدینہ منورہ سے 320کلومیٹرشمال میں واقع ہے۔رپورٹ کے مطابق اس قدیم شہر(الحجر) یا مدائن صالح کا ذکر قرآن پاک میں سورة الحجر میں بھی آیا ہے۔

 

Monday, February 25, 2013

Earth From Sky - Beautiful!


The project of Yann Arthus-Bertrand "Earth seen from heaven" experienced a huge public success. This method revealed till then unknown wonderful colors and symmetry. The scenes captured by the cameras are amazing. "The Earth seen from the sky" is, currently, one of the best selling books of photographs in the world with over of 3 million copies printed in 24 countries.




















Now lets see a selection of some of the best shots!

Tuesday, February 5, 2013

ضروری اعلان


کراچی کے مختلف علاقوں میں CHIUOکے نام سے پیمپرز فروخت ہو رہے ہیں مگر بہت کم لوگوں کو اس بات کاعلم ہے کہ اگر اس پیپمر کو دوسری طرف سے دیکھا جائے تو اس پر لفظ اللہ واضح طور پر لکھا نظر آئے گا۔تمام مسلمان بہن اور بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنے بچوں کیلئے پیپرز خریدتے وقت ضرور دیکھ لیں۔اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کریں۔

Monday, February 4, 2013

حفاظت کے بہانے فرانسیسی فوج نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں پر قابض


فرانسیسی فوج نے نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فرانسیسی فوجیوں کی تعیناتی کے بارے میں فیصلہ الجزائر میں گیس کمپلکس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد کیا گیا تھا۔نائجر کے صدر محمد یوسف نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی فوج نے نائجر میں واقع یورینیم کی کانوں کو اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ نائجر یورینیم کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں پانچویں مقام پر ہے تین سال قبلاسلام پسندوں نے اس کمپنی کی ایک کان سے چار فرانسیسی شہریوں کو اغوا کر لیا تھا۔ ادھر فرانس کی فضائیہ نے مالی کے شمالی علاقوں میں اسلام پسندوں کے مورچوں پر بمباری کی ہے۔ اتوار کے روز جنگجوؤں کے تربیتی مراکز اور گوداموں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

Monday, January 7, 2013

گستاخانہ فلم کے جواب میں عرب نوجوان نے منفرد ویڈیوتیار کر لی



اسلام سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مذہب امن پسند نہیں ہے۔ جو لوگ اسلام کو تشدد کا مذہب قرار دیتے ہیں انھوں نے اسلام اور اس کی تعلیمات کا مطالعہ نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار امریکا میں پیدا ہونے والے ایک عراقی مسلمان، جس کے والدین عیسائی ہیں، نے اُس ویڈیو دستاویزی فلم میں کیا ہے جو عبیر علی نامی ایک عرب مسلمان نوجوان نے تیار کی ہے۔عبیر نے یہ دستاویزی فلم امریکا میں بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کے جواب میں بنائی ہے جس نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو غم ناک اور غضب ناک بنا دیا ہے۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کی شان میں گستاخی سے جہاں تمام مسلمانوں کے دل تڑپ اٹھے ہیں وہاں اُن کے اندر یہ جذبہ بھی بیدار ہوا ہے کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کو اسلام دشمن قوتوں کے مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہوگا۔امریکی پادریوں اور قبطیوں کی شیطانی فلم کے ردعمل میں لاکھوں مسلمانوں نے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے لیکن عرب نوجوان عبیر نے اس گستاخانہ فلم کے مقابلہ میں ایک مختصر دورانیہ کی ویڈیو بنائی ہے۔ یہ ایک دستاویزی فلم ہے جو انگریزی زبان میں تیار کی گئی ہے۔ اس دستاویزی فلم میں پیغمبراسلام اور قرآن پاک کے بارے میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آراء حاصل کی گئی ہیں۔ ویڈیو فلم میں اسلام کے تصور، صبر، حلم اور بردباری کو خاص طور پر موضوع بنایا گیا ہے۔فلم سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غیر مسلم نوجوان مذہب اسلام کو کرۂ ارض کا سب سے زیادہ برداشت اور تلقین کا مذہب ماننے پر مجبور ہیں کیونکہ اسلام کی تعلیمات نے اُن کو یہ بتایا ہے کہ اسلام دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت مل جل کر رہنے اور آگے بڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ ویڈیو فلم میں پوری اسلامی دنیا میں اشتعال کا مُوجب بننے والی گستاخانہ فلم کی طرف توجہ مبذول کرانے والے سوالات غیر مسلم نوجوانوں سے پوچھے گئے ہیں۔سوال پوچھنے پر اس نے جواب میں کہا ’’اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی پر مبنی مہم محض تعصب اور تنگ نظری کا شاخسانہ ہے۔‘‘ ایک دوسرے غیر مسلم نوجوان نے کہا کہ چونکہ عام لوگ ذرائع ابلاغ سے زیادہ متاثر رہتے ہیں اور میڈیا جس انداز میں اسلام اور اس کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کر تا ہے، وہ یقینا عام لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔ خود لوگوں کو اسلام کا مطالعہ کرنے کا موقع کم سے کم ملتا ہے۔ اس لیے وہ میڈیا کی کہی سنی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ایک اور غیر مسلم کے مطابق غیر مسلم ذرائع ابلاغ اور سخت گیر مذہبی شخصیات اسلام اور پیغمبراسلام حضرت محمدؐ کے خلاف توہین آمیز رویہ اس لیے روا رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ تنگ نظر اور مذہبی انتہاپسند اور متعصب ذہنیت کے مالک ہیں۔ دستاویزی ویڈیو فلم میں بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمان قدامت پسند نہیں بلکہ ترقی پسند ہیں۔ دبئی شہر اور اس میں تعمیر ہونے والا خلیفہ ٹاور (برج الخلیفہ) مسلمانوں کی تمدنی ترقی کی روشن مثال ہے جبکہ دبئی ایک ایسے بین الاقوامی شہر کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں ۲۰۰ ممالک کے شہری ایک خاندان کے افراد کی شکل میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان تمام سوالات کا جواب یہی ہے کہ اسلام برداشت، صبر، حلم و بردباری کا دینہے۔ اسلام نفرت نہیں بلکہ محبت بانٹنے کا مذہب ہے۔
ایک آسٹریلین غیر مسلم کا کہنا ہے کہ اس نے مسلمانوں سے ملنے سے قبل ذہن میں یہ سوچ رکھا تھا کہ مسلمان وحشی ہوتے ہیں اور میں جب اور جہاں کہیں بھی ان سے ملوں گا وہ مجھے اذیت پہنچائیں گے لیکن اب میں مسلمانوں میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتا ہوں۔عبیر علی کی یہ دستاویزی ویڈیو ’’یوٹیوب‘‘ پر ’’ہمارے بولنے کا وقت آگیا‘‘ کے عنوان سے موجود ہے۔